بنگلور:۔جے ڈی ایس لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے آئندہ اسمبلی انتخابات کو اپنی پارٹی کے لیے ”اگنی پریکشا قرار دیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کمارسوامی نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات کے نتائج پارٹی کے سیاسی مستقبل کی سمت اور حالت کا فیصلہ کرینگے۔ اس کا اثر اگلے 20-25 سالوں تک جے ڈی ایس کی سیاست پر پڑیگا۔ دراصل کمارسوامی اپنے بیٹے اور جے ڈی ایس یوتھ ونگ کے سربراہ نکھل کمارسوامی کے ایک حالیہ بیان پر ردعمل دے رہے تھے، جس میں نکھل نے کہا تھا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات پارٹی کے آخری ہونگے۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ‘میں نے خود کئی بار کہا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات پارٹی کے لیے اگنی پریکشا ہیں۔ انتخابی نتائج کا اثر پارٹی کی 20-25 سالہ سیاست پر پڑیگا۔ نکھل کمارسوامی نے بھی یہی کہا ہے۔ ہم دونوں نے بحث کی ہے کہ یہ اگلا الیکشن ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ کمارسوامی نے تاہم کہا کہ یہ جے ڈی ایس کیلئے اگلے 25 سالوں کیلئے ایک نئے باب کا آغاز ہونا چاہیے۔ پارٹی نے ریاست کی کل 224 سیٹوں میں سے کم از کم 123 سیٹیں جیتنے کا ہدف رکھا ہے۔دریں اثنا ریاستی مقننہ کے مانسون اجلاس کے بارے میں کمارسوامی نے کہا کہ مقننہ پارٹی کی میٹنگ میں بنگلور سمیت ریاست کے 22 اضلاع میں بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم اجلاس میں 40 فیصد کمیشن حکومت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس بحث میں حصہ لینا ہے تو پورے ثبوت کے ساتھ۔ ورنہ اس کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔ اس سے سیشن کا وقت ضائع ہوگا۔ایک دن قبل حیدرآباد میں کمارسوامی نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے لیڈر اور تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سے ملاقات کی۔ چندر شیکھر سے ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر تیسرے محاذ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جنتادل (ایس) کسانوں کی آواز کو مضبوط کرنے کے لیے قومی سیاست کے KCR کے مقاصد کی حمایت کریگی۔ کمارسوامی نے کہا کہ یہ تیسرا محاذ نہیں ہوگا۔ کے سی آر کا ملک کے مسائل کو حل کرنے کا اپنا ویژن ہے۔ کسانوں کے مسائل کے حوالے سے بھی ان کی اپنی رائے ہے۔ ایک چھوٹی پارٹی کے طور پر ان کے ساتھ شامل ہو کر ہم کسانوں کی آواز کا ساتھ دینا چاہتے ہیں۔
