تہران:۔ایران میں سر پر اسکارف نہ لینے والی لڑکی کے پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 50 افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان احتجاج کرنے والوں کو کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ایرانی امور کو دیکھنے والی اوسلو میں قائم این جی او کے مطابق ہلاکتوں میں تیزی اس وقت آئی جب جمعرات کی رات چھ افراد کوشمالی صوبہ جیلان کے قصبے ریفان شہر میں قتل کیا گیا۔ بابول اور امول میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔مہیسہ امینی کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر ایک ہفتے کے دوران ایران کے کم و بیش 80 چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج پھیل چکا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق امینی کا تعلق شمالی کردستان کے علاقے سے تھا۔ اس لیے کردستان میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔این جی او کا کہنا ہے کہ پچاس لوگ مارے جا چکے ہیں اور لوگ اپنے حقوق اور وقار کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔اس بارے میں انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی برادری کو ضرور ان مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس وقت ایران میں سب سے جابر رجیم ہے۔ واضح رہے ایرانی حکام نے سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد 17 بتائی ہے۔ ان میں سات سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
