ویٹرنری ڈاکٹروں کو علاج کے علاوہ دوسری ذمہ داری;جانوروں کو ہورہی ہےپریشانی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔بے زبان جانوروں کاعلاج کرنے والے ڈاکٹروں کو اب دیگرذمہ داریوں پر مامورکیاجارہاہے جس کی وجہ سے ضلع میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے جانوروں کی بیماریوں کا علاج کرنے کیلئے جانوروں کے ڈاکٹرس دستیاب نہیں ہیں اور جانوروں کی بیماریوں کی پریشانی میں اضافہ ہونے لگاہے۔ضلع کے مختلف علاقوں میں موجود ویٹرنری ڈاکٹروں کو گرام پنچایت نوڈل آفیسرکے طو رپر افزود ذمہ داریاں دی جارہی ہیں اور بعض ڈاکٹروں کو تعلقہ انتظامیہ میں خدمات انجام دینے کیلئے شامل کیاجارہاہے۔21ستمبر کو ضلع پنچایت کے حدودمیں سماجی ،ترقیاتی زمرے میں ان نوڈل افسروں کیلئے تربیتی کارگاہ کا اہتمام کیاگیاہے،جس میں یہ ڈاکٹرس شرکت کرینگے۔تعلقہ کے کئی علاقوں میں جانوروں میں بیکٹریل ڈیسز یعنی مائوتھ اینڈ فیٹ ڈیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جس کی وجہ سے جانور ہلاک ہورہے ہیں،ان جانوروں علاج کی ضرورت ہے،لیکن ویٹرنری ڈاکٹروں کو انتظامیہ امورمیں شامل کرتے ہوئے جانوروں کو مرنے کیلئے چھوڑاجارہاہے۔پہلے ہی ویٹرنری اسپتالوں میں عملے کی قلت ہے،بعض اسپتالوں میں ڈی گروپ ملازمین نہیں ہیں،تو بعض اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہونے کی وجہ سے ایک ہی ڈاکٹر کو ایک سے زیادہ اسپتال میں خدمات انجام دینا پڑرہاہے۔ایسے میں ضلع انتظامیہ نے جو افزود ذمہ داری ہے ان ڈاکٹروں کو دی ہے وہ جانوروں کو سیدھے موت کے منہ میں ڈھکیلنے کے برابر ہوچکاہے۔سال 2015 میں اُس وقت کے سکریٹری برائے ویٹرنری ڈیپارٹمنٹ کوشک مکھرجی نے ویٹرنری ڈاکٹروں اور عملے کو دیگر ذمہ داریوں سے جوڑنے سے منع کیاتھا، لیکن اب پھر سےاس محکمے کے عملے کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا کر دوسری ذمہ داری جارہی ہے۔دیہاتیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان ڈاکٹروں کودوسری ذمہ داریوں پر مامور نہ کرے۔