مسلمانوں کی قبریں بنائی جارہی ہیں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ملک میں اس وقت پاپولر فرنٹ آف انڈیااور ایس ڈی پی آئی کے خلاف حکومت کا جو کرایک ڈائون جاری ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت ملک میں مسلمانوں کی سیاسی۔ملّی اور سماجی طاقت کو بڑھنے کا موقع دینا نہیں چاہتی اور پی ایف آئی پر پابندی عائدکرتے ہوئے یہ بات ثابت کرنا چاہ رہی ہے کہ سنگھ پریوارکی راہ میں جو بھی آئینگے اُنہیں وہ ہٹا دینگے۔بھارت میں یوں تو شدت پسند تنظیموں کی فہرست میں خود سنگھ پریواراور اس کی ذیلی تنظیمیں آتی ہیں۔بجرنگ دل اور وی ایچ پی جیسی تنظیموں نے ملک میں خود افراتفری کا ماحول کھڑا کررکھاہے۔آر ایس ایس ملک میں بم دھماکے کروانے کیلئےذمہ دار ہے،اس کی تصدیق خود آر ایس ایس کے سابق کارکن نے عدالت میں تحریری طو رپر کی ہے،اس کے بعد سوائے گودی میڈیاکے دُنیابھرکے آزاد میڈیانے آر ایس ایس کے وجود اور طریقہ کارپر سوال اٹھایاہے،اسی بات کو دبانے کیلئے سنگھ پریوار کی جانب سے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کےتعلق سے بھارت کے لوگوں میں شبہات پیدا کرنے کی مہم چھیڑی گئی ہےا ور اس بات سے بھی انکارنہیں کیاجاسکتاکہ سنگھ پریوار اور حکومتیں پی ایف آئی کو ختم کرنے کیلئے زمین ہموارکررہے ہیں۔پی ایف آئی ملک میں کیا کررہی ہے اور اس کا وجود کس طرح سے عام لوگوں کیلئےاس تنظیم نے کیا کچھ کیا ہے یہ بات سبھی جانتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پی ایف آئی جیسی تنظیم نے مسلم نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو کیڈر بیس تنظیم سے جوڑ رکھاہے۔ان حالات میں ایک اہم بات یہ مانی جاسکتی ہے کہ پی ایف آئی تو ایک بہاناہے اصل میں اس تنظیم پر دبائوڈال کر مسلمانوں کو دباناہے۔اس سے پہلے بھی بھارت میں مختلف جماعتوں،شخصیات اور علماء پر شکنجہ کستے ہوئے حکومت نے مسلمانوں کو خوف وہراس میں مبتلا کررکھاہے۔بات چاہے ڈاکٹر ذاکر نائک کی ہو یاپھرمولانا کلیم صدیقی کی،یاپھر عمر گوتم کی۔ان سب کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکومت نے دیکھاتھاکہ کس طرح سے ملک کے مسلمانوں کاردِ عمل سامنے آئیگا،جب بھارت کے مسلمانوں نے مکتب اور مسلکوں کے آئینے کو پہن کر ان معاملات سے کنارہ کشی کرلی تو حکومت یہ سمجھ گئی کہ بھارت کے مسلمانوں میں وہ دم باقی نہیں رہاکہ ان کے جسم کے کسی حصے کو کچھ بھی کرلو وہ اسے نظرانداز کرلینگے۔جب انفرادی طورپر ہونے والی کارروائیوں پر مسلمانوں کا کوئی ردِ عمل نہیں آیاتو انہوں نے بھارت کی سب سے بڑی ملّی تنظیم پی ایف آئی پر ہاتھ ڈال دیاہے۔یقین جانئیے اگر ا س بار پی ایف آئی پر پابندی عائدکی جائے اور ا سکے لیڈروں کو طویل عرصے تک جیلوں میں رکھاجائےتو آنے والے پچاس سال تک بھارت میں پھر کوئی ایسی تنظیم وجودمیں نہیں آئیگی اور یہی کوشش موجودہ حکومت کی ہے۔ایک طرف بی جے پی کی طرف سے پی ایف آئی کوختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے تو دوسری جانب کانگریس کے راہل گاندھی نے اس کی تائیدکی ہے،کیونکہ راہل گاندھی بھی جان چکے ہیں کہ اب تک جو ووٹ بینک ان کے کھاتے میں تھا وہ آہستہ آہستہ پھسلنے لگاہے،اس لئے ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی پر پابندی لگانے سے بی جے پی سے زیادہ کانگریس کو فائدہ پہنچے گا۔اس وقت بعض مسلم قائدین پی ایف آئی پر پابندی عائدکرنے کے حق میں ہیں اور دبے الفاظ میں اس کی تائید کررہے ہیں،ممکن ہے کہ موہن بھاگوت سے حالیہ دنوں میں جو ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ اسی کے تناظرمیں ہوئی ہونگی۔اس وقت ملک کے مسلمانوں کے دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ امن وامان قائم کرنے کیلئے مسلسل سنگھ پریوارکے رابطے میں ہیں،مگر جب بھی سنگھ پریوار سے خصوصی نشستوں کااہتمام ہوتاہے تو اس کے بعد بھارت میں مسلمانوں پر بڑا قہر ٹوٹ پڑتاہے۔آج جو لوگ امن کی بات کرنے کیلئے سنگھ پریوارکے دروازے پر قطار بنائے کھڑے ہوئے ہیں وہ پی ایف آئی پرکی جارہی کارروائی کے تعلق سے کیوں نہیں آواز بلند کررہے ہیں؟کیا پی ایف آئی میں شامل مسلم نوجوان اتنے بھی خطرناک ہوچکے ہیں کہ وہ ان کی تائید کے قابل نہیں ہیں؟۔یقیناً پی ایف آئی پر پابندی عائد کرتے ہوئےبھارت کی زمین کو زرخیز بنایاجارہاہے،اس زرخیز زمین پر مسلمانوں کی ترقی کے پودے نہیں بلکہ مسلمانوں کی قبریں بنائی جارہی ہیں۔