دہلی:۔مرکز کی مودی حکومت نے بلیک منی پر قدغن لگانے کے مقصد سے 2016 میں نوٹ بندی ضرور کی، لیکن اس مقصد میں کامیابی قطعاً ملتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے وقت بھی مرکز کے اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگایا تھا، اور کہا تھا کہ بلیک منی پر شکنجہ کسنے کا یہ طریقہ مفید ثابت نہیں ہونے والا۔ تقریباً چھ سال بعد کچھ ایسا ہی محسوس ہو رہا ہے، کیونکہ ایک رپورٹ کے مطابق نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے تقریباً 9.21 لاکھ کروڑ روپے غائب ہو چکے ہیں۔ غائب ہونے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ پیسے مارکیٹ میں تو ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے بارے میں آر بی آئی کے پاس کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔اس تعلق سے ’دینک بھاسکر‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں تحقیق کے ساتھ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ 9.21 لاکھ کروڑ روپے بلیک منی کی شکل میں لوگوں کے پاس موجود ہیں، اور اس کے بارے میں آر بی آئی کو معلوم نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016 کی نوٹ بندی کے وقت مرکزی حکومت کو امید تھی کہ بدعنوانوں کے گھروں کے گدوں-تکیوں میں بھر کر رکھے کم از کم 3 سے 4 لاکھ کروڑ روپے کالا دھن باہر آ جائے گا۔ پوری قواعد میں کالا دھن یعنی بلیک منی تو 1.3 لاکھ کروڑ ہی باہر آیا، لیکن نوٹ بندی کے وقت جاری نئے 500 اور 2000 کے نوٹوں میں اب 9.21 لاکھ کروڑ روپے غائب معلوم پڑ رہے ہیں۔دراصل ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی 17-2016 سے لے کر تازہ 22-2021 تک کی سالانہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آر بی آئی نے 2016 سے لے کر اب تک 500 اور 2000 کے مجموعی طور پر 6849 کروڑ کرنسی نوٹ چھاپے تھے۔ ان میں سے 1680 کروڑ سے زیادہ کرنسی نوٹ سرکولیشن سے غائب ہیں۔ ان غائب نوٹوں کی قدر 9.21 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان غائب نوٹوں میں وہ نوٹ شامل نہیں ہیں جنھیں خراب ہو جانے کے بعد آر بی آئی نے تباہ یعنی ختم کر دیا۔واضح رہے کہ قانون کے مطابق ایسی کوئی بھی رقم جس پر ٹیکس نہ ادا کی گئی ہو، بلیک منی تصور کی جاتی ہے۔ اس 9.21 لاکھ کروڑ روپے میں لوگوں کے گھروں میں جمع بچت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ لیکن اتر پردیش انتخاب کے دوران عطر کاروباری کے گھر پر پڑے چھاپوں سے لے کر حال میں مغربی بنگال کے وزیر پارتھ چٹرجی کے مقربین کے ٹھکانوں پر پڑے چھاپوں تک ہر جگہ برآمد بلیک منی میں 95 فیصد سے زیادہ 500 اور 2000 کے نوٹ شامل تھے۔
