بنگلورو:۔کرناٹکا پولیس نے پیر اور منگل کی درمیانی شب کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کے گھروں پرچھاپہ مارا اور80 سے زائد کارکنوں کوتحویل میں لیاہے۔محکمہ پولیس کی اطلاع کے مطابق پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کو ریاست کے مختلف مقامات پرریاستی پولیس کے ذریعے چھاپہ مارتے تحویل میں لیا گیا ہے۔جن میں منگلورو،باگلکوٹ،بیدر،رائچور،گدگ،شیموگہ، ہاسن،میسورو،بنگلورورورل ،رام نگر اور چتردرگہ میں یہ چھاپہ ماری کی گئی ہے او ران کارکنوں کو حفاظتی اقدامات کے تحت تحویل میں لینے کی بات کی گئی ہے۔کرناٹک کے لاء اینڈ آرڈر کے اے ڈی جی پی الوک کمار نے بتایاکہ80 سے زائدکارکنوں کو تحویل میں لیاگیاہے اور انہیں تعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتے ہوئے عدالتی تحویل میں بھیجاگیاہے،ان میں چند کارکنوں کو نجی ضمانت پر رہاکیاگیاہے،جبکہ بیشتر کارکنوں کو 10 تا15 دنوں کی عدالتی تحویل میں رکھاگیاہے۔اس تعلق سے کرناٹکا ایس ڈی پی آئی کے صدر عبدالجمید نے میسورو میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی سیاسی انتقام کیلئے یہ کارروائی کررہی ہے،این آئی اے کے پاس پی ایف آئی لیڈروں کےخلاف وارنٹ تھا،لیکن اسی وارنٹ کو کیمپس فرنٹ آف انڈیاکے لیڈروں کے خلاف بھی استعمال کیاجارہاہے ۔ ہماری پارٹی کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،پی ایف آئی اور سی ایف آئی کے لیڈروں کو بغیر کسی قصور کے گرفتار کیا گیاہے اور ہم اسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔کرناٹک کےو زیر داخلہ ارگا گیانیندرانے بتایاکہ ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی کے کارکنوں کو پیشگی حفاظتی اقدامات کے تحت گرفتارکیاگیاہے،ان لوگوں نے حال ہی میں این آئی اے چھاپوں کے دوران سڑکوں پر اترکر حالات کو کشیدہ کرنے کی کوشش کی تھی۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے تعلق سے بتایاکہ یہ پولیس کی طرف سے چھاپہ ماری نہیں ہے بلکہ محض احتیاطی اقدامات کے مطابق تحویل میں لیاگیاہے۔واضح ہوکہ اس طرح کے چھاپےدہلی،مہاراشٹر،گجرات،مدھیہ پردیش،یوپی میں بھی مارے گئے۔
خوف پھیلانے کی ہورہی ہے کوشش:
شیموگہ ضلع پی ایف آئی کے صدر عبید اللہ نے روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پی ایف آئی قانونی دائرے میں کام کرنے والی تنظیم ہے لیکن سنگھ پریوار حکومت پی ایف آئی کی مقبولیت سے پریشان ہے،اس لئے وہ مسلمانوں کی اس نمائندہ تنظیم کو ختم کرنے کیلئے اس طرح کا خوف کا ماحول پیدا کررہی ہے،لیکن ہم قانون کے دائرے میں ہیں اور قانونی جدوجہد بھی کرینگے،ان حالات میں مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے،ہر پریشانی کے بعدآسانی یقینی ہے ،پی ایف آئی کا ہر کارکن قانون کے دائرے میں رہ کر کام کررہاہے،اس لئے مسلمانوں کو اس تنظیم سے پُراُمید رہنے کی ضرورت ہے۔
شیموگہ میں7 کارکنان گرفتار،دو کو ملی ضمانت
پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کے گھروں پر آج صبح شیموگہ پولیس کی جانب سے چھاپہ ماری کی گئی جہاں سے7 کارکنوں کوگرفتارکیاگیاہے،ان میں سے دو کارکنوں کو ضمانت ملی،جبکہ پانچ ملزمان کو3/اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیجاگیاہے۔تنگا نگر پولیس تھانے کے حدودمیں آنے والے منصورعلی خان اور رفیق کو عدالتی تحویل میں بھیجاگیاہے جبکہ اندرانگرکےرحیم اور سید اور ضمانت دی گئی ہے۔اسی طرح سے بھدراوتی کے تین کارکنوں کو عدالتی تحویل میں بھیجاگیاہے،ان پر آئی پی سی کی دفعہ107،151 کے تحت معاملات درج کئے گئے ہیں۔
بیک وقت میں 8 ریاستوں میں ہوئے چھاپے
این آئی اےسے ملی لیڈ کی بنیاد پرملک کی 8 ریاستوں کی پولیس نے منگل کو ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ اطلاعات کے مطابق اسے دوسرے راؤنڈ کا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔ دہلی، یوپی، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں بیک وقت کارروائی ہوئی ہے۔ شاہین باغ میں نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں، آسام سے 45 سے زیادہ لوگوں کو اٹھایا گیا ہے۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے 30 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ساتھ ہی یوپی میں بھی کئی لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔واضح رہے کچھ روز پہلے بھی این آئی اے نے پہلے راؤنڈ میں چھاپے مارے تھے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے مختلف مقامات سے پی ایف آئی کے کئی ارکان کو گرفتار کیا ہے۔ وہیں شاہین باغ میں نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ایف آئی کے 170 سے زائد ارکان کو 8 ریاستوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دہلی کے جامعہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
بے لگام ہوا ہےمیڈیا:۔
پی ایف آئی کارکنوں کی گرفتاری کو لیکر الیکٹرانک میڈیا بے لگا ہوچکاہے۔107اور151 سیکشن کے مطابق ہوئی گرفتاریوں کو لیکر جس طرح سے خبریں پیش کی جارہی ہیں اُس سے لوگوں میں خوف زیادہ پھیل رہاہے،کسی ٹی وی میں کارکنوں کو وزیر اعظم کو مارنے کی سازش میں گرفتارکرنے کی بات کہی جارہی ہے تو کسی نیوز چینل میں کارکنوں کوملک مخالف سازشیں کرنے کی بات کی کہی جارہی ہے۔ہر نیوزچینل میں پی ایف آئی کو بین الاقوامی دہشت گردتنظیم کی طرح پیش کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ان تمام کے درمیان بحث ومباحثوں کیلئے نیم حکیموں کوبلایاجارہاہے،جن کے پاس نہ تو قانونی معلومات ہیں اور نہ ہی وہ لوگ ان معاملات میں ماہرہیں۔ہر مذہب کے ایک ایک شخص کو بٹھا کر بحث ومباحثے کئے جارہے ہیں جس کاحاصل سوائے وقت گذاری کے اور کچھ نہیں ہورہاہے۔
