پی ایم کسان اسکیم کے تحت کرناٹک میں442کروڑ روپئے کاغلط استعمال ہواہے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ایک بڑے دھوکہ دہی میں کرناٹک کے چار لاکھ نااہل اور‘مرنے والے’ کسانوں کو 442 کروڑ روپے کی مالی امداد پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) کے تحت دی گئی ہے جوکہ حکمران بی جے پی حکومت کی ایک اہم اسکیم ہے۔ حکام ان کسانوں کی تلاش میں ہیں تاکہ انہیں فراہم کی رقم کی وصولی کی جا سکے ۔سال2019 میں شروع کیے گئے  پی ایم کسان اسکیم کے تحت مرکزی حکومت ہر کسان خاندان کو سالانہ 6000 روپے دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، کرناٹک میں بی جے پی حکومت اپنے خزانے سے 4000 روپے کی اضافی ادائیگی کرتی ہے۔کسان خاندان جو انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور جن کے پاس ادارہ جاتی اراضی ہے وہ پی ایم کسان اسکیم کے تحت اخراجات کے بڑے معیار میں شامل ہیں، جس کی بنیاد پر نااہل کسانوں کی شناخت کی گئی تھی۔ زرعی کمشنر شرت بی نے بتایا کہ جب اسکیم شروع کی گئی تھی تب کسانوں کیلئے خود رجسٹریشن کا آپشن موجود تھاجوکہ اس کا غلط استعمال گیا تھا۔انہوں نے بینکوں کومکتوب روانہ کیاہے کہ وہ نااہل (ineligible) کسانوں سے رقم کی وصولی کا عمل شروع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ تمام ڈپٹی کمشنرز سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ریکوری میں بینکوں کی مدد کر یں ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے فراڈ ممکن نہیں ہونگے کیونکہ حکومت تصدیق کے طریقہ کار کو سخت کر رہی ہے ۔ خود رجسٹریشن کے اختیار کے تحت، 3.83 لاکھ کسانوں نےپی ایم کسان اسکیم کے لیے اپنا اندراج کرایا تھا۔ شرت نے ریاستی سطح کے بینکروں کی کمیٹی کو لکھے اپنے خط میں کہا کہ چتردرگہ ضلع سے غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں اس طرح کے معاملات پیش آئے ہیں،جس میں ”رجسٹرڈ ریکارڈز کی تفصیلی تصدیق کا مطالبہ کیا گیا”۔اس کے نتیجے میں، 1.06 لاکھ کسان خود رجسٹریشن کے آپشن کا استعمال کرتے ہوئے نااہل پائے گئے۔ شرت نے کہا کہ خود رجسٹریشن ابھی کھلا نہیں ہے۔حکومت نے مزید 1.99 لاکھ کسانوں کی نشاندہی کی جو زمین کی بنیاد پر اہل نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 3312 مرنے والے کسانوں کو بھی رقم ملی۔اب تک حکام 7.26 کروڑ روپے کی وصولی میں کامیاب ہو چکے ہیں۔پی ایم کسان اسکیم کے تحت کرناٹک میں 58.42 لاکھ کسانوں کا احاطہ کیا ہے اور یہ بی جے پی کی مہم کا اہم مرکز بن گیا ہے ۔کسان رہنما کوروبورو شانت کمار نے تاہم کہا کہ اس اسکیم نے کسانوں کی مدد کے لیے بہت کم کام کیا۔ انہوں نے زرعی آلات پر ڈیزل اور جی ایس ٹی کی بڑھتی ہوئی قیمت پر کہا کہ ایک کسان کو 1800 روپے کی کھاد کے چھ تھیلے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ 10800 روپے ہے۔ اس لیےپی ایم کسان اسکیم  کے تحت رقم اس لاگت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔