نئی تعلیمی پالیسی کے تکنیکی نصاب میں نئی نسل کیلئے روزگار کے بے شمار مواقع: ایم ایس ملّا

اسٹیٹ نیوز
ہبلی:۔نئی تعلیمی پالیسی کے پیش نظر نئے طرز پر بنایا گیانیا تکنیکی نصاب جس میں شعبۂ انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے ہر طالب علم کا مستقبل روشن ہوگا۔نیز اس جدیدتکنیکی نصاب میں انڈسٹریز اور نصابی کتب کے مابین پائے جانے والے فرق کو پوری حد تک کم کیا گیا ہے تاکہ طلباء انجینئرنگ تعلیم کے فراغت کے بعد فوری طور پر کسی انڈسٹری یا فرم سے جڑجائیں اور اس آرگنائزیشن کی ضرورت بن جائیں اور ان صنعتی تقاضوں کو پورا کریں جو درکار ہیں۔‘‘ ان خیالات کا اظہار ایم ایس ملا پرنسپال ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی نے ادارہ میں اساتذہ کے لئے منعقدہ ورکشاپ’’نیا تکنیکی نصاب، وضاحت،اغراض و مقاصد اور اہمیت و افادیت‘‘ کے موقع پر اپنے افتتاحی کلمات میں کہا۔انہو ںنے مزید کہا کہ اب اس نئے طرز کے تکنیکی نصاب میں طلباء کے لئے روایتی انداز میں درس و تدریس کا طریقہ،سوالات و جوابات کی تیاری نیز کلاس روم کی چار دیواری کے درسِ عمل سے باہر نکل کر تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کی راہیں اور ترغیب دلائی گئی ہے، جہاں پر طلباء کو اپنے اندر کی چھپی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے گا۔اور ٹائم ٹیبل میں ہفتہ کا ایک دن لازماََ متعین رہے گا کہ طلباء نصابی کتب کی دنیا سے باہر نکل کر قریبی انڈسٹری کا دورہ کریں یا کسی ریسورس پرسن جو انڈسٹری تقاضوں کی وسیع معلومات رکھتا ہوں، انہیں مدعو کریں اور ان کے خیالات اور عملی تجربوں سے طلباء استفادہ کرسکیں تاکہ صنعتی ضرورتوں اور کالج میں دی جانے والی تکنیکی تعلیم میں ہم آہنگی پائی جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ طلباء اپنی پڑھائی ختم کرنے کے بعدبنگلور یا کسی میٹرو سٹی کا رخ نہ کرسکیں بلکہ اپنے اپنے اضلاع میںذرائع وسائل پید اکریں اور حکومت کی جانب سے مہیا کی جانے والی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کفیل بنیں اور دوسروں کے لئے بھی روزگار پیدا کریں۔ــ‘‘آخر میں پرنسپال ایم ایس ملا نے اساتذہ برادری سے کہا کہ وہ اس نئے تکنیکی نصاب تعلیم کو نافذ کرنے میں کلیدی رول ادا کریں اور کہا کہ ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہے اور ان تمام درس لوازمات کو اختیار کرنا ہے جس کے پیشِ نظرنئی نسل کاروشن مستقبل ہو اورانہیں روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہو۔قریباََ تین گھنٹے کمشنر اینڈ ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنیکل ایجو کیشن ، بنگلور کے عہدیداروں کی جانب سے ریاست بھر کے ایڈیڈ پالی ٹیکنک سے گوگل میٹ کے ذریعہ تمام اساتذہ کو خطاب کیا گیا جس میں نئے طرز پر مبنی تکنیکی تعلیم کی وضاحت کی گئی۔اس تکنیکی نصاب کو نافذ کرنے کے مختلف مراحل پر گفتگو کی گئی اور طلباء کو اس بات کی آزادی دی گئی کہ وہ فائنل ایئر میں اپنے کریئر کے لئے دیئے گئے شیڈول سے اپنی پسند سے مضامین کا انتخاب کرسکتے ہیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ شعبۂ انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے روزگار کے کئی ایک راہیں اور کئی ایک مواقع حاصل رہیں گے۔آخر میں سوالات و جوابات کا سیشن رکھا گیا۔ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنکل ایجوکیشن، بنگلور کے عہدیداروں نے اطمینان بخش جواب دیئے۔اس گوگل میٹ میں تمام شعبہ جات کے صدور رویندر سنگھ عطار اور چندر شیکھر نوپد، یم ایس سومنکٹی،مسعود احمد جنیدی،ایم ایچ دھارواڑ،عبدالرزاق ملا،بالیش ہیگنور کے علاوہ تمام اساتذہ شریک رہے۔آخر میں کرن کمار منٹور نے اساتذہ اور عہدیداران ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنکل ایجوکیشن کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اساتذہ کے لئے ایک اہم موضوع پر ورکشاپ کا انعقاد کیا تاکہ اس گوگل میٹ کے ذریع نئی تکنیکی نصاب کی روح کو سمجھا جاسکے۔