شرعیہ قانون اللہ کا قانون ہے اسے کوئی نہیں بدل سکتا : ایڈوکیٹ سہیل احمد 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شرالکوپہ:قانون کو سمجھنا اس وقت بے حد ضروری ہے،  قانون کی خلاف ورزی کرنے پر، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم قانون نہیں جانتے۔ جس وقت بھارت میں ہم اقلیتوں کو ہر معاملے امیں نشانہ بنایا جارہاہےایسے وقت میں مسلمانوں کو قانون سے واقف رہنا بے حد ضروری ہے۔ جب ہم قانون پر عمل پیرا ہوتے ہیں قانون ہمارا ساتھ دیتاہے ۔ اس بات کا اظہار ایڈوکیٹ سہیل آحمد نے کیا ہے۔ انہوں نے ضلع کے شرالکوپہ میں اے پی سی آر کی جانب سے منعقدہ قانونی بیداری مہم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سویل لاء اور کریمنل لاء کی بنیادی معلومات کو حاصل کریں۔ سویل لاء میں جائیداد، لین دین، معاہدے اور املاک کے سلسلے انصاف دلاتاہے جبکہ کریمنل لاء میں مجرمانہ سرگرمیوں پر کارروائی ہوتی ہے۔ کریمنل پروسیجر انڈین پینل کوڈ کے تحت چلنے والی کارروائی ہے۔ ہم مسلمان ہیں جسکی وجہ سے شریعہ قانون پر عمل پیرا ہیں جو بھی آپسی اختلافات ہیں، شادی بیاہ، میراث، وقف شریعہ قانون کے تحت عدالتوں میں فیصلے ہوتے ہیں۔ انڈین لاء اور شریعہ لاء میں فرق ہے۔ انڈین لاء کو تشکیل دینے والے انسان ہیں جبکہ شرعیہ لاء اللہ کا بنایا ہوا قانون ہے جو ہمیشہ رہنے والاقانون ہے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ سہیل احمد نے یف آئی آر، وارنٹ وغیرہ کے تعلق سے تفصیلات پیش کی۔ ایڈوکیٹ شری پال نے موجودہ حالات میں اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اقلیتی ہونےکا مطلب یہ نہیں کہ وہ ظلم سہتے رہیں بلکہ قانون کا سہارا لے کر اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں ۔ صحافی مدثر احمد نے حالات حاضرہ پر اپنی تقریر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کے حالات نہایت سنگین ہیں، ان حالات میں مسلمانوں کو حکمت اور صبر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے خاص کر نوجوانوں جذبات میں آکرکام نہ کریں۔ جذبات میں کام کرنے سے نتیجہ نہیں نکلتاہے بلکہ نقصان زیادہ ہوتاہے ۔ موجودہ حالات میں نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں،  میڈیا کا حصہ بنیں اور جوڈیشیل سسٹم کا حصہ بنیں تو آنے والے دنوں میں ہمارا مستقبل بہتر ہوسکتاہے۔  اس موقع اسٹیج پر کانگریس لیڈر سید بلال، کا ؤنسلر مدثر احمد، انجمن کے صدر حنیف وغیرہ موجود تھے۔ جلسے کی نظامت محمد آصف نے کی۔ قرآت تنویر احمد پیش کی اور مہمانان کا شکریہ شفیع الله  نے ادا کیا۔