شیموگہ : ضلع میں عام لوگ ابھی کووڈ وبا سے پیدا شدہ پریشان کن حالات سے لڑ ہی رہےہیں کہ بلیک فنگس نامی نئی بیماری نے دستک دی ہے۔ کووڈ وبا کی دوسری لہر کے بعد شیموگہ میں بلیک فنگس سے پہلی موت واقع ہوئی ہے۔ اس فنگس سے متاثرہ پہلے معاملے کی تصدیق ضلعی اسپتال میگان میں ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کووڈ سے متاثرہ ایک 40 سالہ شخص میں بلیک فنگس کی علامات دیکھی گئی۔ افسروں کے مطابق یہ مریض چند روز قبل کووڈ کے علاج و معالجہ کےلئے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ اگرچہ اس مریض کی کووڈ رپورٹ منفی آئی ہے تاہم اس میں کل بلیک فنگس انفیکشن کی تصدیق ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مریض ضیابطیس میں بھی مبتلا ہے اور اسکی بلڈ شوگر لیول 900 ہو گئی تھی جو کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریض کو کووڈ علاج کے دوران لازمی اسٹیریورایڈس دی گی گئی جسکی وجہ سے شاید انکی قوت مدافعت کم ہو گئی اور وہ بلیک فنگس کا شکار ہو گئے اور آج دوران علاج وہ فوت ہوگئے ۔ماہر ایپیڈیمالوجسٹ ڈاکٹر عرفان احمدسونور کا کہنا ہے کہ بلیک فنگس کا خطرہ زیادہ تر کم قوت مدافعت رکھنے والے مریضوں میں زیادہ رہتا ہے۔ تاہم ہر کووڈ مریض کو بلیک فنگس کا خطرہ نہیں رہتا ۔ ذیا بطیس میں مبتلا جو مریض کووڈ کا شکار ہوتے ہیں انہیں اس بیماری سے بچانے کے لیے اسٹیریورایڈس دینا لازمی بن جاتا ہے، نتیجے کے طور پر انکی ایمونٹی لیول کم ہو جاتی ہے اور ان میں سے کئ افراد کو بلیک فنگس کے انفیکشن کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اسکے علاؤہ کینسر ، ذہنی امراض کے مریضوں نیز ان افراد میں بھی بلیک فنگس کا بھی خطرہ رہتا ہے جنکے اعضاء ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہو۔ کیونکہ انکی بیماری پر قابو پانے کےلئے ایمونو سپریسنٹ کا استعمال کیا جاتا ہے جسکے باعث انکی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور بلیک فنگس انہیں شکار بنا لیتا ہے۔
