بنگلورو:۔ملک میں حالات بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہے ہیں۔جنوبی ہندمیں بھی بہت تیزی سے بدلاؤ آرہاہے۔ بی جے پی کامانناہے کہ سب کاساتھ، سب کاوکاس کامنتراسی وقت پوراہوگا جس اس میں توازن ہو۔ بی جے پی ملک میں بسنے والی تمام اقوام کی یکساں ترقی کیلئے کوشاں ہے۔ تمام اقوام کی ترقیات ، ان کے اندراعتمادکیساتھ بی جے پی چاہتی ہے کہ تمام قومیں ملکر دیش کوترقیات کی طرف لے جائیں اور اسے وشو گروبنانے میں اپناکرداراداکریں ۔بنگلورآمدپربی جے پی لیڈراور جماعت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا صہیب قاسمی نے اخباری نمائندوں کیساتھ بات چیت میں کہاکہ بی جے پی نے ہندی بلٹ میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔جنوبی ہندکی ریاستوںمیں آنے والے دنوںمیں انتخابات ہونے والے ہیں اسوجہ سے اس کاایک خاص مشن ہے، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک میں وہ افراد اور شخصیات جو راشٹروادی سوچ رکھتے ہیں بی جے پی کی ان پر خاص نگاہیں ہیں، بی جے پی چاہتی ہے کہ ایسے مسلم جو سب کو ساتھ لیکرچلنے کی سوچ رکھتے ہیں ان کو اپنے ساتھ لیا جائے، مسلمانوں کے اندرجو غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں اسے دورکرنے کی کوشش کی جائے۔مولانا صہیب قاسمی نے کہاکہ بی جے پی قیادت نے سبھی کو جوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ جنوبی ہندمیں آئندہ ہونے والے انتخابات میں راشٹروادی مسلمانوں کو آگے بڑھانے کی کوشش ہوگی اور انہیں بھرپور نمائندگی دی جائے گی۔مولانا نے کہاکہ کانگریس کی خاندان پرستی سے ملک کو آزادی ملی ہے۔ ایک طویل عرصے تک ملک کے مسلمانوں کاسیاسی استحصال کیاجاتارہا، اسے نعرے بازی تک محدود رکھاگیا،لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں جماعت علمائے ہندکے قومی صدرمولانا صہیب قاسمی نے کہاکہ پی ایف آئی پر گزشتہ تین برسوں سے نظررکھی جارہی تھی، ان کی سرگرمیاں ملک مخالف تھیں، ان کے کارکنان ایجنسیوںکے راڈار پر تھے ، ثبوت وشواہدملنے کے بعد ہی ان کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ پی ایف آئی نے کیرلامیں جوکچھ کیاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔ حجاب معاملہ پر مولانا صہیب قاسمی نے کہاکہ یہ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے،عدالت عظمیٰ کاجوبھی فیصلہ آئے گاوہ سبھی کیلئے قابل قبول ہوگا۔ لوگوں کو معلوم ہوناچاہئے کہ ہم حجاب کے خلاف نہیں ہیں۔ کرناٹکا اردواکیڈمی کی تشکیل سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا صہیب قاسمی نے کہاکہ کرناٹکااردو اکیڈمی کی جلدتشکیل کیلئے وہ متعلقہ لیڈران سے ملاقات کریں گے،گرچہ اسمبلی انتخاب قریب ہیں پھر بھی ان کی کوشش ہوگی کہ جلدسے جلد اکیڈمی تشکیل دے دی جائے۔ مولانا نے کہاکہ ملک کے مسلمان مودی جی سے قریب آرہے ہیں، انہیں مزیدقریب آنے کی ضرورت ہے۔ اگلے اسمبلی وکارپوریشن انتخابات میں مسلمانوں کو ٹکٹس دیے جائیںگے، اور ان کے تمام مسائل کی یکسوئی کی جائے گی۔اس موقع پر سابق ریاستی وزیروسنیئرلیڈرآرروشن بیگ، جواں سال قائد آررومان بیگ بھی موجودتھے۔
