دہلی:۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں لگاتار گراوٹ پر ایک طرف ملک کے عوام میں تشویش پائی جارہی ہے، وہیں ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے عجیب وغریب بیان دے کر عوام کی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ملک میں ڈالر کی قدر میں ایسی گراوٹ آئی ہے کہ اگلے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ اس وقت ایک ڈالر کی قیمت 82 روپے 42 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ اس صورت حال کو قبول کرنے اور اس کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کے بجائے مرکز کی مودی حکومت اس حالت زار کو فائدہ مند قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی کوشش میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے روپیہ کی قدر میں کمی پر عجیب و غریب دلیل دی ہے۔مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنے امریکہ کے سرکاری دورے کے دوران واشنگٹن ڈی سی میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’’روپیہ کی قدر نہیں گر رہی ہے بلکہ ہمیں اسے اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ ڈالر مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر آپ مارکیٹ کی دیگر کرنسیوں کو دیکھیں تو روپیہ کی کارکردگی ڈالر کے مقابلے میں کافی بہتر ہے!۔روپیہ کی مسلسل گراوٹ سے ہندوستان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور کئی علاقوں میں اس کا اثر نظر آرہا ہے۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ روپیہ کی گراوٹ ہندوستان میں اس حوالہ سے بھی بڑی پریشانی کا باعث ہے کہ ملک بہت سی ادویات بشمول ضروری تیل، برقی سامان اور مشینری درآمد کرتا ہے۔ اگر روپیہ کی قدر اسی طرح گرتی رہی تو درآمدات مزید مہنگی ہو جائیں گی اور آپ کو زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔
