بھٹکل:۔بھٹکل جامعہ اسلامیہ سے فارغ اور ندوۃ العلماء لکھنو کے عُلیا ثانیہ (فضیلت) کے طالب علم مولوی سید نقیب ابن نورالامین ایس کے (21) کا دہلی سے بذریعہ ایمبولینس مینگلور اسپتال منتقل کرنے کے دوران راستے میں ہی انتقال ہوگیا۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔بتایا گیا ہے کہ کچھ دنوں سےموصوف کے سر سے شدید درد اُٹھ رہا تھا، ساتھیوں نے سمجھا کہ عام سردرد ہوگا، لیکن ششماہی امتحان کے بعد تعطیلات پر سیروتفریح کے لئے دوستوں کے ساتھ جب وہ چنڈی گڑھ ہوتے ہوئے شملا منالی پہنچا توجمعرات 13اکتوبر کواچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ پتہ چلا کہ اسے برین ہیمریج ہوا تھا۔ اسے فوراً ایمبولینس کے ذریعے دہلی لے جایا گیا، مگر ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو پھر نقیب کو مینگلورکے لئے روانہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے چونکہ ایمبولینس پر لے جانے کی صلاح دی تھی، اس لئے اسے ایمبولنس پر سوار کرکے اتوار صبح مینگلور اسپتال لے جانے کے لئے نکل پڑے۔ دوپہرکو ایمبولینس حیدرآباد سے قریب 80 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی کہ خالق حقیقی کا بلاوا آگیا اور نقیب جو اپنے والدین کا اکلوتا لڑکا تھا، انہیں، تین بہنوں اور دیگرمتعلقین کو سوگوار چھوڑ کرمالک کی آواز پرلیبک کہہ گیا۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔انتقال کی خبرپھیلتے ہی بھٹکل بندرروڈ سکینڈ کراس پر واقع ان کے مکان پرلوگ تعزیت کے لئے پہنچنے لگے۔ سوشیل میڈیا پر بھی کافی لوگوں نے اس نوجوان عالم دین کے انتقال پرسخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مغفرت کی دعائیں کرتے دیکھے گئے۔مرحوم کی نمازجنازہ پیر کے دن بعد نماز ظہر جامع مسجد میں اداکی گئی۔
