ہندوستان : 15 سالوں میں 415 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے:اقوام متحدہ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 2005-06 سے 2019-21 کے درمیان ہندوستان میں تقریباً 415 ملین لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔اس معاملے میں ایک تاریخی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور غربت اور انسانی ترقی کے اقدام (او پی ایچ آئی) کے ذریعہ جاری کردہ نئے کثیر جہتی غربت انڈیکس (ایم پی آئی) میں ہندوستان کی غربت کے خاتمے کی کوششوں کی تعریف کی گئی۔ اس کے مطابق 2005-06 سے 2019-21 کے دوران ہندوستان میں 415 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔غربت کے تناسب  کی رپورٹ میں اس کامیابی کو پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب ایک قابل ذکر کوشش قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2030 تک غریبوں کی تعداد کو نصف کرنے کے پائیدار ترقی کے اہداف کو بڑے پیمانے پر حاصل کرنا ممکن ہے۔ ایک پریس ریلیز میں اس رپورٹ کی تفصیلات دیتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا کہ ہندوستان میں ان 15 سالوں کے دوران تقریباً 415 ملین افراد کثیر جہتی غربت کے چنگل سے نکل آئے ہیں، یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے۔رپورٹ کے مطابق زبردست کامیابی کے باوجود 2019-21 میں ان 22.89 کروڑ غریبوں کو غربت سے باہر لانا ایک مشکل کام ہے۔ ہمیں یہ بھی نوٹ کرنا ہوگا کہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد اس تعداد میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ غور طلب ہے کہ 2019-21 میں ہندوستان میں 97 ملین بچے غربت کی لپیٹ میں تھے، جو کہ کسی بھی دوسرے ملک میں موجود غریبوں کی کل تعداد سے زیادہ ہے۔پھر بھی ایک کثیر جہتی پالیسی کے نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ مربوط مداخلتیں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا کے 111 ممالک میں کل 1.2 بلین افراد یعنی آبادی کا 19.1 فیصد انتہائی غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے آدھے لوگ یعنی 59.3 کروڑ صرف بچوں کے ہیں۔ ہندوستان میں غریبوں کی تعداد میں کمی کو بھی دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔سال 2005-06 سے 2015-16 کے دوران جب کہ 27.5 کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے، 2015-16 اور 2019-21 کے درمیان 14 کروڑ لوگ غربت سے باہر آنے میں کامیاب ہوئے۔ اگر ہم علاقائی غربت کی بات کریں تو 2015-16 سے 2019-21 تک بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش میں خالص غریبوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں غریبوں کا تناسب 21.2 فیصد ہے جبکہ شہری علاقوں میں یہ تناسب 5.5 فیصد ہے۔ کل غریب لوگوں میں سے تقریباً 90 فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔