تریکرے:۔جماعت اسلامی ہند تریکرے کے زیراہتمام شہر کے ہوٹل آرامنے میں ایک عظیم و شان سیرت پروچن پروگرام منعقد کیا گیا ۔جلسے کی صدارت شانتی پرکاشن منگلور کے مینیجر محمد کنی سکریٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے کی ۔ مہمان خصوصی سابق رکن اسمبلی وائی یس وی داتا مفکرکڈور اور چیف آفیسر مونسپل کونسل مالتیش تھے۔ جلسے کا آغاز حافظ عبد الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا شیخ واجد نے کنڑا میں ترجمہ کیا۔شیخ جاوید امیر مقامی جماعت اسلامی ہند تریکرے نے افتتاحی کلمات میں صدر جلسہ مہمان خصوصی اور حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے سیرت مہم کا تعارف پیش کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک ریاست بھر میں سیرت پروگرام منعقد کررہی ہے آج یہ نشست برادران وطن کیلئےخاص ہے ۔ مہمان خصوصی مالتیش نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر ایک کیلے نمونہ ہے ہمیں ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ایک اور مہمان خصوصی وائ یس وی داتا مفکرکڑور نے پرجوش انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو پیغام حضرت عیسیٰ ؑنے دیا تھا وہی پیغام حضور اکرم ﷺ نے دیا کہ ایک اللہ کو مانو حلال اور حرام کو جانو اللہ کی پیروی کرو وہی تمام پیغام ہمارے سوامی بسوانا نے 600 سال پہلے کہا تھا کیا ہم اس پر عمل کرہے ہیں ہر انسان آجکل دولت عزت شہرت میں مشغول ہو گیا ہے دولت کی دھن میں اپنے پیدا کرنے والے کو بھی بھول چکا ہے آج پھر سے سماج میں نبی کریم اور سوامی بسوانا کی ضرورت ہے پھر سے انقلاب لانے کیلئے پیغمبروں کی ضرورت ہے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات کو عام کرنے کیلئے شانتی پرکاشن نے بازبان کنڑا میں بے حساب کتابیں پیش کی ہیں ان کتابوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے آج کے بگڑے ہوے سماج کو جماعت اسلامی جیسی اور تنظیموں کو کام کرنا ہوگا ہم سب کو مل کر سماج میں پھیلی ہوئی براہیوں کی فکر کرتے نفرت کی آگ کو بجھانا ہوگا ہم سب بھائی ایک ماں باپ کی اولاد اور ایک خدا کے بندے بن کر ثابت کرنا ہوگا یہ اب ہمارا کام ہے۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے جلسے کے صدر سکرٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند محمد کنی نے ایک جامع خطاب دیتے ہوے فر مایا کہ سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو عام کرنے کیلئے جماعت اسلامی ہند کی یہ مہم آو پیغام نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام کریں کے عنوان پر ریاست بھر میں پروگرام کرکے برادران وطن میں نبی کریم کے پیغامات کو عام کررہی ہے آج ہم جس سماج میں جی رہے ہیں وہ ایک بیمار سماج ہے ایک ایسا ماحول بن چکا ہے جس میں ہر انسان پریشان ہے ڈر کا ماحول پیدا ہوچکا ہے کب کہاں کیا ہوگا، اس کا خوف ہر انسان پر ہے ایک طرح کی بے چینی نفرت جہالت سب عام ہوگیا ہے اسے ماحول میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغامات کو عام کرنا یہ ہمارا فرض ہے 1400 سال پہلے بھی ایسا ماحول مکہ مدنیہ میں تھا ایسے ماحول میں نبی کریم نے دین کی تبلیغ کی اور حالات کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔آج وہی حالات ہمارے سامنے موجود ہیں برادران وطن کو ساتھ لے کر حرام و حلال کا ایک خدا کی پیروی کا اس کے احکامات کا اور توحید و رسالت کے پیغامات کو عام کرنا،سماج میں پھیلی ہوئی نفرتون کی فضا کو ختم کرنا ہوگا 1400 سال پہلے ہی نبی کریم ﷺنے شراب سود زنا کو حرام قرار دیا تھا آج ہمارے سماج میں سود کی وجہ سے کئ زندگیاں برباد ہو رہی ہیں نا جانے کتنے لوگ خودکشی کررہے ہیں ‘شراب اور زنا نوجوانوں کیلئے عام ہوچکا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی یہ ذمہ داری ہے کہ برادران وطن کو ان تمام برائیاں کے خلاف آگاہ کریں اہی کام جماعت اسلامی پچھلے 60 سالوں سے کرتی آرہی ہے ۔عادل پاشاہ نے نظامت کی اور ان کے شکریہ پر جلسے کا اختتام ہوا کثیر تعداد میں برادران وطن مرد و خواتین جلسے میں شریک رہے ۔
