آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی رکن ڈاکٹر اسماء زہرہ نے بورڈ سے دیا استعفیٰ،کہا، زبردستی معافی نامہ لکھوا یا گیا

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی جانب سےبورڈکی شعبہ خواتین کو تحلیل کرنے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے ایک وضاحتی بیان جاری کیاہے جس میں بتایاگیاہے کہ بعض حلقو ں سے غلط فہمی پھیلائی جارہی ہے کہ بورڈنے شعبہ خواتین کو ختم کردیا،یہ بات بالکل غلط اور بے بنیادہے۔حقیقت یہ ہے کہ خواتین کو ارکان کو بورڈکے مختلف شعبوں میں شامل کرکے ان کی نمائندگی کوبڑھایا گیا ہے ۔ البتہ شعبہ خواتین کیلئے نے قواعد اور ضوابط بنائے جارہے ہیں جس کیلئے عارضی طورپر اس عنوان سے سرگرمیوں کو موقوف کیاگیاہے۔جبکہ اسی بورڈنے ایک مکتوب جاری کیاتھا،جس میں بتایاگیاتھاکہ مستقبل میں ایسا ہوسکتاہے کہ پہلے شعبہ خواتین کیلئے ضوابط بنائے جائیں اور دائرہ کار متعین کیاجائے،ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر اسماء زہرہ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اومنس ونگ کے نام سے تمام سوشیل میڈیا اکائونٹ،واٹس ایپ،ٹوئٹر،فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ کوڈیلیٹ کریں۔اب ڈاکٹر اسماء زہرہ نے بورڈ کو اپنااستعفیٰ پیش کیا جس میں انہوں نے بتایاہے کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ کے عہدے سے مستعفی ہونے جارہی ہیں،انہوں نے بورڈ پر الزام لگایاہے کہ بورڈکے جنرل سکریٹری کے ساتھ دہلی میں ان کی میٹنگ طئے ہوئی تھی جس میں ان پریہ الزام عائدکیاگیاہے کہ انہوں نے بورڈکی شبیہ اور وقار کو بگاڑاہے،اس سمت میں مجھ سے زبردستی معافی نامہ لکھوایاگیااور میرے ساتھ غیر منصفانہ طریقے سے برتائو کیاگیاہے۔انہوں نے واضح کیاہے کہ میں نے اب تک جو کچھ کیاہے وہ اُمت مسلمہ کی فلاح وتحفظ کیلئے کیاہے۔اب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکےمجلس عاملہ کی رکنیت سے مستعفی ہورہی ہوں۔