میانمار کی فوج سے متعلق سخت عالمی موقف ضروری: اقوام متحدہ

انٹرنیشنل نیوز

نیویارک:۔میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر نے فوجی جنتا پر پابندیاں اور ہتھیاروں کی سپلائی پر روک لگانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میانمار میں شہریوں کے خلاف روسی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے میانمار میں انسانی حقوق کے سفیر ٹوم اینڈریوز نے بدھ کے روز متعدد ملکو ں پر مشتمل ایک اتحاد سے اپیل کی کہ میانمار کے فوجی عہدیداروں پر پابندیاں اور اسے ہتھیاروں کی سپلائی پر اسی طرح پابندی عائد کردیں جس طرح انہوں نے یوکرین پر ماسکو کی فوجی کارروائی کے بعد روس کے خلاف کی تھی، تاکہ میانمار کے فوجی حکمرانوں پر دباو پڑ سکے۔اینڈریوز کا کہنا تھا کہ یوکرین میں عوام کو ہلاک کرنے کے لیے جو بعض اقسام کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں وہی ہتھیار میانمار میں بھی لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اور یہ ہتھیار اسی جگہ سے آرہے ہیں، یہ ہتھیار روس سے آرہے ہیں۔اینڈریوز نے کہا کہ بین الاقوامی براداری کو اپنی کوششوں کو مربوط کرنی چاہئے اور پھر ایک ساتھ مل کر اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ایسا نہیں کیا جا رہاہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا کس طرح کریں بلکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم ایسا کس طرح کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو یوکرین پر نگاہ ڈال لیجیے۔خیال رہے کہ روس میانماروں کو سب سے زیادہ ہتھیار سپلائی کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ وہ ان چند ایک ملکوں میں بھی شامل ہے جو سن 2021 میں بغاوت کے ذریعہ جمہوری حکومت کو معزول کرنے کے بعد وہاں قائم ہونے والی فوجی حکومت کا دفاع کرتے رہے ہیں۔ملک میں بغاوت کے بعد سے مخالفین کے خلاف میانمار کی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں میں 2300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو شمالی کاچن ریاست میں ایک جلسے پر میانمار فوج کے فضائی حملے میں متعدد شہری ہلاک ہوگئے۔ اینڈریوز نے میانمار کی داخلی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے موجودہ رجحان کی وجہ سے خوفناک حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔