دہلی:۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے وزیر اعلی ارویند کیجریوال نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے ہندوستانی کرنسی نوٹ پر گاندھی کے ساتھ بھگوان گنیش اور لکشمی کی تصویر لگائی جائے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں ملک کی کرنسی کمزور ہورہی ہے وہیں معیشت بھی بدحالی کا شکار ہے۔ جب بھی ہم مصیبت میں آتے ہیں تو بھگوان کو یادکرتے ہیں ۔ ہم دیوالی پر لکشمی اور شری گنیش کی پوجا کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ انتہائی سنگین حالات میں بھی ہم بھگوان پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ایسے میں میری اپیل ہے کہ بابائےقوم مہاتما گاندھی کے ساتھ لکشمی اور شری گنیش جی کی تصویر ہندوستانی کرنسی یعنی نوٹوں پر چھاپی جائے۔ مزید کہا کہ نوٹ پر گاندھی جی کی تصویر ویسے ہی رکھی جائے لیکن دوسری طرف۔ دیوتاؤں کی تصویر لگائی جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان پر ہندوتوا کارڈ کھیلنے کا الزام لگایا جارہا ہے تو کجر یوال نے کہا کہ یہ الزامات لگتے رہتے ہیں لیکن سچائی کی طاقت کو کوئی کمزور نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ اس مطالبہ کے ذریعہ کجر یوال نے جہاں ہندتوا کارڈ کھیلا ہے وہیں انہوں نے بابائے قوم گاندھی جی کی اہمیت بھی کم کردی ہے۔۔نوٹ پر لکشمی اور گنیش کی تصویر لگانے کے کجریوال کے مطالبے کے بعد کانگریس اور بی جے پی دونوں پارٹیوں نے کجریوال کو آڑے ہاتھ لیا اور ہندوتوا کارڈ کھیلنے کا الزام لگایا۔ سوشیل میڈیا پر بھی کجریوال کی سخت فضیحت جاری ہے اور کہا جارہا ہے کہ بلی آخر تھیلے سے باہر آگئی ہے۔تازہ بیان پر اردو کے صحافی سمیع اللہ خان نے اپنے فیس بک پیج پر جو تجزیہ کیا ہےجس میں کہاہےکہ عام آدمی پارٹی کے چیف اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے آج مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہندوستانی کرنسی / نوٹوں پر گاندھی جی کے علاوہ لکشمی جی اور گنیش جی کی تصویریں بھی لگائیں، کیجریوال نے بہت صاف کہا ہے کہ: بھارتی معیشت کو بگڑتی صورتحال کو سدھارنے کے لیے ہمیں اپنے (ہندوؤں کے) دیوی دیوتاؤں کے آشیرواد کی ضرورت ہے، اس لیے ” لکشمی اور گینش جی ” کی تصویریں اپنی کرنسی پر لگانی چاہیے ۔کیجریوال کا کہنا ہے کہ: ہم لوگ (ہندو قوم) ہر صبح اپنے کاموں کی شروعات لکشمی جی اور گنیش جی کی مورتیوں کے سامنے کھڑے ہوکر کرتےہیں، ان کی پوجا کر کے اپنے کاموں کی شروعات کرتےہیں۔ اروند کیجریوال کا یہ مطالبہ ہندوستان کے ڈھانچے کو مکمل طورپر ھندوتوا رنگ میں رنگنے کی طرف بڑا قدم ہے، یہ خواہش اور ایجنڈا درحقیقت آر۔ایس۔ایس کے ھندوراشٹر کا ہے لیکن آر ایس ایس نے اس اہم ترین ایجنڈے پر بھاجپا کی جگہ کیجریوال سے کام لیا ہے۔ کرنسیوں پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویریں لگانے کا کام درحقیقت ہندوستان کے سسٹم میں ھندوراشٹر کے عملی نفاذ کی طرف ایک اور بڑا قدم ہوگا۔ ہم کئی سالوں سے یہ بات کہہ رہےہیں کہ اروند کیجریوال سَنگھ کا بھاجپا سے زیادہ وفادار ہے، مودی سے زیادہ کیجریوال سے بچنا چاہیے، کیجریوال کا ھندوتوا مودی سے زیادہ چالاک ہے اور کیجریوال مودی سے بڑا ھندوراشٹر کا سپاہی ہے، لیکن سیکولر لوگوں نے اپنے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے، کیجریوال تعلیم یافتہ ہے اس لیے وہ اپنے ھندوتوا کے ایجنڈے کو انتہائی شاطرانہ طورپر نافذ کررہاہے، البتہ بھارتی کرنسیوں کو ھندوراشٹر کی کرنسی بنانے کا تاریخی ھندوتوا اقدام کیجریوال کی طرف سے شروع ہوا ہے جس سے وہ آنے والی ھندوتوا تاریخ کا بڑا ہیرو بن کر ابھرے گا۔مسلمانوں کےخلاف ھندوتوائی نفرت پھیلانے والاعوامی سطح کا گندا کام سَنگھ بھاجپا سے لے رہاہے لیکن سسٹم کو ھندوراشٹر میں ڈھالنے والاخطرناک سَنگھی ایجنڈا کیجریوال کے حوالے ہے۔ کیجریوال کا یہ مطالبہ جہاں ہندوستان کے آئین، سسٹم اور نام نہاد سیکولرزم کو توڑنے والا ہے وہیں اگر دیوی دیوتاؤں کی تصویریں کرنسیوں پر آجاتی ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت بڑا امتحان ہوگا کہ وہ دولت کی انتہائی مشرکانہ تقسیم کےساتھ چلتے ہیں یا پھر ان کا انکار کرتےہیں، کیونکہ کرنسیوں پر ھندو بھگوانوں کی تصاویر لگانے کا پورا خاکہ شرک کے اعلیٰ ترین دیومالائی عقائد پر مشتمل ہے جس کے مطابق دولت و رزق کا اختیار ” لکشمی اور گنیش ” کے ہاتھوں میں ہے اور اسی عقیدے کو برتتے ہوئے کرنسیوں پر ان کی تصاویر شائع کرانے کی بات چل رہی ہے، اگر خدانخواستہ بھارتی کرنسیوں کا رنگ ایسا ہوجاتا ہے تو یہ مسلمانوں کے لیے سخت نظریاتی چیلنج ہوجائیگا، کیونکہ اسے قبول کرنے کا مطلب توحید سے سمجھوتہ اور شرک سے ہاتھ ملانا ہوگا۔
