چکمگلورو: شہر کے کڑور کی بہت قدیم قریب80 سال پرانی جامعہ مسجد لبابین کی ازسرنوجدید تعمیر کا افتتاح عمل میں لایا گیا۔ مسجد لبابین کے بانی مشہور مخیر وی کے عبدالرحیم نے تعمیر کی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مصلیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مسجد کی موجودہ کمیٹی نے شہر کے نوجوانوںکو ساتھ لیکر تقریباً7 کروڑ کی مالیت پر ایک عالیشان مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ جس کیلئے کڈور کے تمام مسلمان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ موجودہ کمیٹی کی انتھک محنتوں کی وجہ سے یہ جدید مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہے۔ مسجد کی افتتاح تقریب میں ہزاروں فرزندان توحید شریک تھے۔ افتتاحی اجلاس کیلئے بنگلورسے تشریف لائے ہوئے مفتی شفیق احمد اورقاری کلیم اللہ نقشبندی نے اپنے اپنے خطاب عام میں تعمیر مسجد کی اہمیت اوراسکے اجروثواب ومسلمانوں میں اتحاد واتفاق کے سلسلے میں تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اللہ کا گھر ہے۔ جس مسلمان نے مسجد تعمیر کی اورتعمیری کام میں حصہ لیا وہ جنت میں اپنا ایک گھر بنانے کا درجہ رکھتا ہے۔ آج کے دور میں مسجد کو صرف عبادت کی حدتک محدود نہیں رکھنا ہے بلکہ مسجد کو مسلمانوں ایک مرکز بنانا ہے۔ جہاںسے مسلمانوں کے مسائل حل ہوسکیں ۔ مسجد کو آباد رکھنا ہے ، کیونکہ مسجد کی زینت نمازی ہوتے ہیں ، انہوں نے اس بات پر زور دیا اورنصیحت کی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آپسی اختلافات اورمسلکی اختلافات کو ختم کرکے آپس میں اتحاد واتفاق کو قائم کریں۔ کیونکہ اسی میں مسلمانوں کی بھلائی ہے۔کیونکہ اسی نااتفاقی کی وجہ سے مسلمان ہر شعبے میں پست ہمت اورترقی سےکوسوں دور ہےاور جسکی وجہ سے غیر اقوام اس پر بھاری ہیں ۔ انہوں نے مسجد کی موجودہ کمیٹی اورکڈور کے مسلمانوں کو مبارکبادی پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالیشان مسجد سے مستقل ایک مدرسہ قائم کیا جائے ۔ علماء اکرام کے بدست مسجد کمیٹی کے صدر محبوب اورسکریٹری سعادت حسین ، محمد آحمد ، نائب صدر عطااللہ، خزانچی ودیگر اراکین مسجد کوشال پوشی کرکے عزت افزائی کی۔ مسجد فردوس چکمگلورنے سنائی۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد عثمان خطیب وامام مسجد لبابین کڈور نے ادا کئے۔ تمام شرکاء کیلئے کمیٹی کی جانب سے تناول طعام کا انتظام کیا گیا تھا۔ مولانا کلیم اللہ نقشبندی کی دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔
