دتتا پیٹھا مقام کو ہندوئوں کا اہم مذہبی مقام قرار دیاجائے:سری رام سینا کامطالبہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔چکمگلورو ضلع کے بابا بڈھن گری دتتاپیٹھاکے مقام کو ہندوئوں کا اہم مقام قرار دینے اور وہاں ہندو پجاریوں کی تعیناتی کی جائے۔اس بات کا مطالبہ سری رام سینا کےریاستی کارگزار صدر گنگادھر کلکرنی نے ریاستی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیاہے۔انہوں نےکہاکہ یہاںہر سال ہونے والے دتتامالے ابھیان منعقدکیاجاتاہے تو جوکہ سات دنوں تک جاری رہتاہے۔اسی ماہ کی13 تاریخ کو ختم ہونے والے اس ابھیان کے دوران ہی حکومت یہاں پر پجاریوں کو مقررکریںاگر حکومت فوری طور پراقدامات نہیں اٹھاتی ہے تو دتتا پیٹھا بھگت یا پھر ہندوئوں کی جانب سے کسی بھی طرح کےحالات بگڑتے ہیں تو اس کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہوگی۔بابا بڈھن گری درگاہ میں ہونے والے روایتی مذہبی کام وکاج میں کسی بھی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کیلئے کرناٹک ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک حکم جاری کیا ہے ۔کابینہ میں فیصلہ کیا گیا تھاکہ مجاوروں اور پجاریوں کو دونوں مذاہب کی روایات کے مطابق پوجا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عدالت نے یہ حکم سید غوث محی الدین شاہ قادری کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے بعد حکومتی فیصلے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے جاری کیا۔حکومت نے شری گرو دتاتریہ پیٹھا میں مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے مجاور کے ساتھ ہندو پجاریوں کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں گزشتہ 19 اگست کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھاجس میں اس بات کاتذکرہ تھاکہ یہاںپرہندو اور مسلم مذاہب کے نمائندوں پر مشتمل ایک انتظامی کمیٹی کی تشکیل دی جائے اوراس کمیٹی سے مجاور اور پجاریوں کی تقرری کی جائے۔لیکن اس سرکلر کے مطابق اب تک ریاستی حکومت نے کسی بھی طرح کے اقدامات نہیں اٹھائے ہیں ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی حکومت اس ضمن میں دتتا پیٹھا کے تعلق سے مسائل کو فوری حل کرے۔