بنگلورو:۔آنے والے اسمبلی انتخابات میں کس اسمبلی حلقے سے امیدواربنونگا ابھی اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہیں کیاہے،جلدہی اس تعلق سے فیصلہ لونگا۔اس بات کااظہار سابق وزیر اعلیٰ واپوزیشن لیڈر سدرامیانے کیاہے۔انہوں نے بلگائوی ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ اسمبلی حلقے بادامی سے دوبارہ الیکشن لڑنے کیلئے مقامی لوگوں کا اسرار ہے،کئی خواتین نے مجھ سے گھرکے پا س آکر الیکشن میں نمائندگی کرنے کی گذارش کی ہے،کئی لوگوں نے خطوط بھی لکھے ہیں۔ہر ہفتے وہاں جانااور قیام کرنا ممکن نہیں ہورہاہے،بادامی اسمبلی حلقے کے مسائل پر توجہ دینابھی ممکن نہیں ہورہاہے۔اس وجہ سے آنے والے اسمبلی انتخابات کے تعلق سے فیصلہ نہیں کرپایا۔بادامی اسمبلی حلقے کا دورہ کرتے ہوئے دوماہ گزرچکے ہیں،صحیح سے وہاں کے ترقیای کاموں پر توجہ دینا ممکن نہیں ہورہاہے۔کولار،چامراج پیٹ اور ورنّا اسمبلی حلقوں سے بھی نمائندگی کرنے کیلئے لوگ کہہ رہے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ امیت شاہ قتل کے ملزم ہیں،گڑی پارہیں،باوجوداس کے بھارت کے وزیر داخلہ ہیں،قتل کے معاملات کا سامنا کررہے کئی اراکین اسمبلی بھی اس وقت اسمبلیوں اور پارلیمان میں نمائندگی کررہے ہیں جب تک کسی کو مجرم قرار نہیں دیاجاسکتا اُس وقت اُسے ملزم ہی ماناجاتاہے۔ایسے میں بعض لوگ اپنےا وپر خود کریمنل مقدمے رکھتے ہوئے بھی ہم جیسوں پر الزام تراشیاں کررہے ہیں۔سی ایم ابراہیم کے سوال پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئےکہاکہ سی ایم ابراہیم میرے اچھے دوست ہیں،لیکن کانگریس چھوڑکر انہوں نے جے ڈی ایس میں دوبارہ شمولیت اختیارکی ہے،اگر وہ چاہیں تو وہ بھدراوتی سے مقابلہ کرسکتے ہیں،وہاں اپاجی گوڈاکی موت کے بعد جے ڈی ایس کی نمائندگی کرنے والاکوئی نہیں ہے،اُنہیں بھدراوتی سے انتخابات میں نمائندگی کرنے کاپورا حق ہے،لیکن وہ مجھے کہاں سے الیکشن لڑناہے،اس کی تجویز نہ دیں،بلکہ اپنے سیاسی مستقبل کے تعلق سےفکر کریں،میری فکرکرنے کیلئے میری پارٹی موجودہے۔پچھلےاسمبلی انتخابات میں برسرِ اقتدار رکن اسمبلی کو ٹکٹ دینے کے بجائے سی ایم ابراہیم کو ٹکٹ دیاگیاتھا،لیکن وہ ڈیپازٹ بچانے میں بھی ناکام ہوئے،اس کا مطلب یہ ہواکہ سی ایم ابراہیم کا حساب کتاب اپنے حلقے میں صحیح نہیں ہے۔
