بنگلورو:۔کرناٹک اردو اکادمی کی لائبری دفتر میں ” یومِ اردو کا انعقاد عمل میں آیا۔ محفل کی ابتداء محمد کفایت اللہ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوئی ۔ استقبالیہ محمد صادق نے فرمائی ۔ ڈاکٹر معاذالدین خان، رجسٹرار، کرناٹک اردو اکادمی نے صدارت کے فرائض انجام دئے۔ مختار پاشاہ، انڈر سکریٹری، محکمہ اقلیتی بہبود، حج و اوقاف، حکومتِ کرناٹک اورسلمہ فردوس، سکریٹری، کرناٹک اقلیتی کمیشن، حکومت کرناٹک بطور مہمانانِ خصوصی شریک رہے۔ ڈاکٹر معاذالدین خان نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ مجھے بڑی مسرت ہورہی ہے کہ آج ہم تمام ڈاکٹر علامہ اقبال کی یومِ پیدائش کے طور پر یوم اردو منا رہے ہیں۔ یہ اقبال ہی تھے جنہوں نےسارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘ اور اپنے نظم و نثر میں خواتین کے اہم کردار و اقتدار کو فروغ دینے کا پیغام دیا تھا۔ ‘‘ رجسٹرار صاحب نے مزید فرمایا کہ ’’اقبال نے ملت کے ذمہ داروں کو آواز دی تھی کہ ہر حال میں عورتوں کو تعلیم سے مالا مال کیا جائے کیوں کہ ایک فرد کا تعلیم یافتہ ہونا صرف ایک فرد کا تعلیم یافتہ ہونا ہے لیکن ایک خاتون کا تعلیم یافتہ ہونا ایک خاندان کا تعلیم یافتہ ہونا ہے۔ ‘‘ اکادمی کی سرگرمیوں کے تعلق سے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہاکہ جشن ِ یومِ اردو کا اصل مقصداردو زبان کی مقبولیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کی مہم کا نام ہے ۔ اس مہم کو آگے بڑھانے کیلئے اکادمی کی جانب سے امسال 10 اسکیموں کا ہم نے اعلان کیا ہے۔ اور ان اسکیموں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اردو اسکولوں کے پرنسپل، اردو کالجوں کے پروفیسر اور یونیورسٹیوں کے اردومحکمے کے ایچ اوڈی کو شامل کیا ہے۔ ساتھ ہی ہم نے ہر پروگرام کے انعقاد میں اکادمی سے مالی تعاون حاصل کرنے والے اداروں کو یہ ہدایت جاری کی ہے کہ اردو کے دو اساتذہ کا اعزاز کیا جائے تاکہ اردو اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہو۔خصوصی اعلان کرتے ہوئے رجسٹرار نے فرمایا کہ ’’اکادمی نے اس مرتبہ ’یومِ اردو‘ کی پر مسرت موقع پر ہندوستان بھر سے آئے ہوئے 41 اردو کتابوں کو ہول سیل خریداری (Bulk Purchase) اسکیم کے تحت لینے کا طے کیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ریاستِ کرناٹک کے ادباء و شعراء کے علاوہ ہندوستان بھر کے اردو قلمکار کرناٹک اردو اکادمی سے جڑنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔مختار پاشاہ نے اپنے تاثرات میں فرمایا کہ ’’ہمیں بہت خوشی ہے کہ اکادمی اس طرح نئے منصوبوں کو لے کر اردو کے اساتذہ چاہے وہ اسکول، کالج یایونورسٹی سے ہوں ان کو اکادمی کے پروگراموں میں شریک فرمائی ہے اور اردو کے اساتذہ کی تہنیت قابلِ تعریف ہے۔ امید ہے کہ اکادمی اپنے منصوبوں میں بھر پور کامیاب ہوگی‘‘۔ سلمہ فردوس نے مختصراً اپنی بات رکھتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ اکادمی میں اردو اشعار اور شاعر و ادیب کی تصاویر یں لگائی جائیں اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اردو کی نشر کا اہتمام کیا جائے ۔ نظامت و ہدیہ تشکر سید عرفان اللہ نے فرمائی۔
