بنگلورو:۔کرناٹکا میں پچھلے سال بنگلوروکے ڈی جے ہلی او رکے جے ہلی میں متنازعہ تصویرکولیکر جو فسادات ہوئے تھے جس کی وجہ سے تقریباً200 مسلم نوجوانوں پر مقدمے عائدکئے گئے تھے،ان نوجوانوں میں سے تقریباً 160 نوجوان جیلوں سے رہاہوئے لیکن اب بھی چالیس سے زیادہ نوجوان جیلوں میں ہیں،ان نوجوانوں پر کرناٹکا حکومت نے یو اے پی اے ایکٹ کے مطابق مقدمہ عائدکیاہے،جس کی وجہ سے ان کی ضمانت سپریم کورٹ میں بھی منسوخ ہوئی ہے۔اس سازش کارچنے والے اور فسادات کرنے والے کوئی بھی ہو لیکن نقصان مسلمانوں کا ہواہے۔200 کے قریب نوجوانوں کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑرہے ہیں،جس کی وجہ سے ان کی حالت پریشان کن ہوچکی ہے۔ابھی اس معاملے کا تنازعہ ٹھنڈانہیں ہواتھاکہ ہبلی میں سوشیل میڈیاپر پوسٹ کئے گئے ایک متنازعہ تصویرکولیکر ہبلی کے نوجوانوں نے جوش میں ہوش کھو بیٹھے اور اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال چکے ہیں۔ہفتے کی رات کو ایک ہندو نوجوان نے سوشیل میڈیا پر مسجد نبوی کی توہین کرتےہوئے وہ تصویر سوشیل میڈیا پر پھیلائی تھی جس کے بعد سینکڑوں مسلم نوجوان ہبلی کے اولڈ ہبلی پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہوئے اور جوشیلے نعرے بلند کرتے رہے۔جس نوجوان نے سوشیل میڈیا پر تصویر پوسٹ کی تھی اُس نوجوان کو پولیس نےتحویل میں لے رکھا تھا اور قانونی کارروائی کرنےکا یقین دلایاتھا،باوجوداس کے مقامی نوجوانوں نے چند جوشیلی تقرریں کرنے والوں کی باتیں سن کرتحویل میں لئے گئے نوجوان کو ہجوم کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے رہے،جس کے بعد پولیس اور ہجوم کے درمیان جھڑپ ہوئی۔سینکڑوں کی تعدادمیں جمع ہونے والے مسلم نوجوانوں نے نہ صرف پولیس پر پتھرائوکیا بلکہ پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایاور کئی پولیس اہلکاروں پر جان لیوا حملہ بھی کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑاہے۔ڈی جے ہلی اور ہبلی کے واقعات دونوں ہی ایک دوسرے سے ملتے ہیں،وہاں بھی جوش میں آکر مسلم نوجوانوں نے ہوش کھو بیٹھا اور ہبلی میں بھی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئےفسادات کیا۔سوال یہ ہے کہ آخر ان نوجوانوں کی عقل کہاں ماری گئی ہے،جو بغیر کوئی سوچے سمجھے اشتعال انگیز بیانات پر اپنا نقصان کررہے ہیں۔توہین رسالت ہویا توہین مقدس مقامات کے معاملات نئے نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے معاملات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہے،بلکہ حکمت کے ساتھ کام کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ہبلی اور ڈی جے ہلی میں جو واقعات پیش آئے ہیں وہ ایک جیسے ہونے کے علاوہ شرپسندوں کو متحد ہونے کیلئے کافی ہیں۔بھارت کےقانون میں ایسے واقعات کو روکنے کیلئے قانون موجودہے،باوجوداس کے مسلم نوجوان جو ش سے کام لیتے ہوئے اپنا نقصان کررہے ہیں۔مسلم نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جو ش میں آکر ہوش نہ کھو بیٹھیں بلکہ عقل کے ساتھ کس کام کو کیسے اور کب کرنا ہےاس کا فیصلہ لیں۔
