سوسائڈ ہب بنتاجارہاہے کرناٹک،بنگلورومیں روزانہ10  بقیہ اضلاع میں 25 خودکشی معاملات ہورہے ہیں درج

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹک کو ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار کیا جا تا ہےاور یہاں کی عوام کو مہذب اور روشن خیال شہریوں میں شمارکیاجاتاہے۔لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ریاست بھر میں پیش آرہے خودکشی کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔بنگلورومیں ہر دن اوسطاً 12-10 خودکشی کے معاملات درج کئے جارہے ہیں جس میں طلباء، عورتیں اور بے روزگارنوجوان شامل  ہیں ۔ بنگلوروکے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر 25-20 خودکشی کے معاملات درج کئے جارہے ہیں ۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ خودکشی کرنےو الے افرادمیں پچھلے کچھ دنوں سے کمسن طلباء کی تعدادبھی زیادہ ہے جو والدین کی نصیحت ، اساتذہ کی ڈانٹ یا دوستوں کے چڑھانے کی وجہ سے خودکشی کررہے ہیں۔18-14 سال کے طلباء ہی ان خودکشیوں کاشکارہورہے ہیں ۔ معمولی سی باتوں پر خودکشی کررہے طلباء کے تعلق سے جائزہ لینےپر یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلباء کم نمبرات لینے، امتحان میں ناکام ہونے، ذہنی دبائو اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے روکنے پر خودکشی کررہے ہیں ۔ وہیں دوسری جانب شادی شدہ خواتین جو شادی کے محض دوماہ سے لیکر پانچ سال کے درمیان ذہنی دبائو، ازدواجی زندگی میں انتشاراور پسند ناپسندکی شادیوں کی وجہ سے خودکشی کررہی ہیں۔اس طرح سے دیکھاجائے تو ریاست میں ماہانہ 1000-800 افراد خودکشی کا شکار ہورہے ہیں۔حالانکہ ذہنی دبائومیں رہنےوالوں کی کائونسلنگ کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں جس کیلئے مفت میں کائونسلنگ کی جاتی ہے ۔ 18005990019 پرجوبیس گھنٹے کائونسلنگ کی جاتی ہے،مگر اس کا استعمال کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔عام طورپر جذباتی ہوکریا پھر غصے میں آکر خودکشی کرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہورہی ہے۔پچھلے ایک ہفتے میں بنگلورومیں ہی تین طلباء نے خودکشی کی ہے،ایک طالب العلم نے اسکول میں کم نمبرات لانے کے خوف سے نقل نویسی کررہاتھا،جب و پکڑاگیاتو وہ شرمندگی کی وجہ سےخودکشی کاشکارہوا،اسی طرح سے اور ایک طالب العلم امتحان میں کم نمبر لانے کی وجہ سے خودکشی کاشکارہوا،جبکہ آج بنگلوروکی ہی ایک طالبہ نے استانی کی ڈانٹ سے تنگ آکر اتوار کی شام ڈیتھ نوٹ لکھ کر خودکشی کر بیٹھی ہے،تینوں طالب العلم ہائی اسکول کے ہیں۔ان وجوہات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ضروری ہوگئی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی  ذہن سازی خودکریں یاپھر ماہرین کے ذریعے سے کروائیں ۔ بھلے ہی یہ بچے والدین کے سامنے اچھے ہوں،لیکن ان کے دل میں کیاچل رہاہے اور کیسے ان کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اس کا جائزہ ماہرین ہی لے سکتے ہیں۔