بنگلورو:۔غیر سرکاری ادارے کے ذریعے حکومت کے افسروں کے تعائون سے ہزاروں ووٹروں کی تفصیلات کی چوری کی گئی ہے،اس کیلئے ریاستی حکومت پوری طرح سے چوروںکاتعائون کررہی ہے۔یہ الزام کانگریس لیڈروں نے لگایاہے۔یہاں کرناٹکا کانگریس کے نگران رندیپ سرجے والانے پریس کانفرنس میں کہاکہ40 فیصد کمیشن کی حکومت بدعنوانیوں کی راجدھانی بن چکی ہے،جمہوری نظام میں بھی یہ گھوٹالے کرنے لگی ہے،ایسے گھوٹالے ماضی میں کبھی بھی نہیں ہوئے ہیں،یہ حکومت عوام سے ووٹنگ کاحق چھین رہی ہے۔وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی اور اشوتھ نارائن کا اس این جی او سے کیا تعلق ہے،غیر قانونی کام کرنے والے ان لوگوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ اور وزراء کاکیا رشتہ ہے،اس تعلق سے وزیر اعلیٰ بومئی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ ودھان سبھا اپوزیشن لیڈر سدرامیانے بات کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ بومئی کے خلاف ہم شکایت کرینگے،بومئی سی ایم ہونے کےبعد اس طرح کی دھاندلیاں کررہے ہیں،ان دھاندلیوں کے پیچھے بومئی کا ہاتھ ہے،اس وجہ سے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں اور اس معاملے کی چھان بین کرناٹک کے چیف جسٹس کی نگرانی میں کی جائے۔اس کے بعدکانگریس لیڈروں نے اس معاملے میں بنگلورو پولیس کمشنر پرتاپ ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار ،اپوزیشن لیڈر سدرامیا ، رندیپ سرجےوالانے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی اور بی بی ایم پی کمشنر کے خلاف تحریری شکایت پیش کی ۔ وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے اپنے اوپرلگے ہوئےا لزامات پرکہاکہ کانگریس دیوالیہ ہوچکی ہے،الیکشن کمیشن نے سویپ پروگرام کو منعقدکرنے کیلئے بی بی ایم پی اور مقامی تنظیموں کو ذمہ داری سونپی ہے اور یہ سروے این جی او کرتے ہیں،یہ پہلی بار نہیں ہواہےبلکہ سال2018 میں اس طرح کا سروے ہواتھا۔این جی او کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں ہے،اس تعلق سے تحقیقات کیلئے احکامات جاری کئے گئے ہیں،کانگریس نے جو الزام مجھ پر لگایاہے اُس الزام مضحکہ خیز ہے،اگر مجھ پرلگائے گئے الزامات کے تناظرمیں استعفیٰ پوچھاجارہاہے تو ماضی میں بھی یہی کام وزرائے اعلیٰ نے کیاتھا،اُس کیلئے کانگریس اُن کو بھی موردِ الزام ٹھہرائے۔
