لاکھوں کی شادیاں ، ہزاروں کی پریشانیاں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
آئے دن شادی ایک رسم یا طریقہ سے بڑھ کر اسٹیٹس بنتی جارہی ہے جس کے لئے لوگوں لاکھوں کروڑوں روپیے خرچ کررہے ہیں اور ان شادیوں میں جو اصراف ہورہاہے اسکی کوئی حد ہی نہیں ہے ، جو شخص جتنا خرچ شادی پر کررہاہے وہ سمجھ رہاہے کہ وہ ایک مثال قائم کررہاہے ۔ مختلف قسم کے کھانے ، قیمتی سے قیمتی شادی حال ، ڈیکوریشن یہاں تک کہ ناچ گانا بھی آج کل عام ہوچکاہے ۔ ان حالات میں شادی کو سادی کرنے اور خرافات سے دورکرنے کے لئے جو اہل علم خوب خوب خطبے دیتے ہیں اور ولیمہ کو سنت بتاتے رہیں ، شادیوں کے تعلق سے مہم چلاتے رہے ہیں وہ لوگ بھی ان قیمتی شادیوں میں شرکت کو اپنے لئے باعث ثواب سمجھ بیٹھے ہیں اور کام کویہ اصراف نہیں بلکہ رشتوں کی بحالی اور خوشیوں میں شمولیت کا نام دے رہے ہیں ۔ شادی سادی ہو اس پر کئی مہمات اور تحریکیں چلائی گئی ہیں لیکن اس کا حاصل کیا ہورہاہے اسکا کوئی تو اندازہ لگاکر دیکھے کہ قول اور فعل میں کتنا تضاد ہے ۔ وہیں دوسری جانب قوم کی نسلوں کا بڑا حصہ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھ رہاہے جن میں کئی ایسے طلباء ہیں جو مجبوریوں کا شکار ہیں ، کئی طلباءجو میڈیکل ، انجنئیر نگ یا قانون کی پڑھائی پڑھنا چاہتے ہیں لیکن انکے حالات اسکے لئے اجازت نہیں دیتے ہیں وہ اس امید سے رہتے ہیں کہ کوئی تو انکی مدد کرے ۔ لیکن یہاں مدد کرنے والے کم ، مشورے دینے والے زیادہ لوگ ہیں ، کوئی کہتاہےکہ وہ اسکالر شپ ملے گی تو کوئی کہتاہے کہ فلاں تنظیم مدد کریگی ۔ کوئی کہتاہے کہ فلاں مالدار شخص کے پاس جائو ، مالدار شخص کہتاہے کہ رمضان میں آئو ۔ بعض کو تو یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے اسکے پڑھنے سے ہمیں کیا ملنے والاہے ، کل کا دن وہ مالدار بنے گا یاکمانے لگے گا تو کیا ہمیں کچھ دیگا ؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جو اکثر ہم سنتے رہتے ہیں ۔یقیناََ کسی طالب العلم کی مدد کرنے سے وہ کماکر مدد کرنے والے کو کچھ نہ دیگا یہ کچھ حد تک صحیح ہے لیکن اسکے کمانے کے بعد اسکے گھر والے تو کسی کے سامنے مانگنے والے نہیں بنیں گے یہ سوچنے کی بات ہے ۔ آج مسلم معاشرے میں تعلیمی ضروریات کو لے کر کئی طلباء پریشان ہیں ۔ کچھ بچوں کے والدین اس بات کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں تو کچھ بچوں کے ماں باپ ہی نہیں ہوتے ایسے میں امت مسلمہ شادی بیاہوں پر لاکھوں کروڑوں روپیے خرچ کرنے کے بجائے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علم کی راہیں ہموار کریں ۔یقیناََکسی شادی میں مختلف پکوان کھلاکر اس شادی کو گرانڈ شادی کا لقب ضرور دلواسکتے ہیں لیکن اس سے گرانڈ کام تو کسی کو تعلیم یافتہ بنانا ہے جس دنیا و آخرت دونوں ہی کامیاب ہونگے ۔ جو لوگ تعلیمی اخراجات کو لے کر آپ کے سامنے آتے ہیں انہیں مشورہ دینے کے بجائے پہلے اپنی طرف سے کچھ مدد کریں پھر مشورہ دیں ۔ مشورے مفت میں ملتے ہیں صاحب ، تعلیم نہیں ۔ کئی مالدار ایسے بھی ہیں جو اپنی تجوریوں میں اپنے مال کو جمع کرتے ہوئے اپنے آپ کو مالدار کہلاتے ہیں لیکن انکے مال سے کسی کی مدد کرنے کے لئے انکے ہاتھ بہت کم اٹھتے ہیں ، سوچئے کہ کرونا جیسی بیماری میں کیسے لوگ آن کی آن میں چلے گئے اور مال رہ کر بھی وہ اپنی جانوں کو بچانے میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کی خاطر دولت جمع کرتے ہیں اور یہ سوچھتے ہیں کہ انکے دنیا سے چلے جانے کے بعد انکے بچے کسی کے محتاج نہ رہیں ، دور اندیشی اچھی چیز ہے لیکن کس نے دیکھا ہے کہ کل انکے بچے انکے باپ کمائی کا صحیح استعمال کرینگے یا پھر باپ کمائی کو کھانے سے پہلے ہی اللہ کو پیا رے ہوجائیں گے ۔ نیکی کو عام کریں وہی آج بھی کام آئیگی کل بھی کام آئیگی ۔