آشاورکرس کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑکررہی ہےحکومت:کمارسوامی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ریاستی حکومت کواپنی سخت تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے کہاکہ تسلیم شدہ سماجی صحت کارکن(اے ایس ایچ اے)آشاورکرس کوتین مہینوں تک اعزازیہ فراہم نہیں کیاگیاہے۔تنخواہوں پرمنحصران آشاورکرس کی زندگی کاگزران مشکل ہوگیاہے۔کووِڈبحران کے دوران اپنی زندگیاں ہتھیلیوں میں رکھ کرصحت کی خدمات انجام دینے والے آشاورکرس کوماہانہ اعزازی رقم کے ساتھ فی کس 3ہزارروپے ترغیبی رقم دینے کاحکومت نے اعلان کیاتھا۔حکومت نے صرف 50فیصدآشاورکرس میں رقم تقسیم کرتے ہوئے بقیہ کارکنوں کے ساتھ دھوکہ کیاہے۔کمارسوامی نے آج اپنے سلسلہ وارٹوئٹ پیغام میں مزیدکہاکہ کووِڈ۔19کی روک تھام کے لیے تعینات صحت کارکنوں میں سے اب تک 16آشاورکرس فوت ہوگئے ہیں۔ہزارسے زائدکارکن کوروناوائرس سے متاثرہوئے ہیں۔ماہانہ وظیفہ دینے سے قاصرحکومت آشاورکرس کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑکررہی ہے۔آشاورکرس کوزبانی طورپر کوروناوارئرس قراردینے والی حکومت کوچاہئے کہ صحت کارکنوں کوبروقت ان کی تنخواہیں ادائیگی کاجتن کرے۔ کووِڈکے برسرپیکار آشا ورکرس کوان کامحنتانہ دینے سے عاجزحکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افرادکے لیے 1250کروڑروپے کے اقتصادی پیکیج کا اعلان ایک خام خیالی معلوم ہوتا ہے۔ کورونا وارئرس کالیبل لگانے والی حکومت کی جانب سے کورونامیں فوت صرف ایک آشاورکرکے لیے 50لاکھ روپے دئے گئے ہیں۔بقیہ 15ورکرس کواب تک معاوضہ کی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔حکومت کی اس لاپروائی سے اگرآشا ورکرس خدمات فراہمی سے رک جائیں توریاست کی کیاحالت ہوگی؟ ریاست میں کورونامتاثرین کی تعدادہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے،جوحکومت کے لیے خطرہ کی گھنٹی ہے