اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نیشنل نیوز
شیموگہ:۔لاک ڈائون کے نافذ ہونے کےبعد پچھلے سال ریاست بھر کے مختلف مقاما ت سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ کئی مکان مالکان نے اپنے اپنے کرایہ داروں کے ماہانہ کرایوں کومعاف کیاتھا اورکئی مکان مالکان نے اپنے کرایہ داروں نے چھوٹ بھی دی تھی،لیکن اس دفعہ لگتاہے کہ مکان مالکان کے دل بھی سخت ہوچکے ہیں جو اپنے کرایہ داروں کوہرگزبھی رعایت دینے کی نہیں سوچ رہے ہیں۔مختلف علاقوں سےیہ بات موصول ہورہی ہے کہ کوروناکے ان سنگین ایام میں جہاں غریب ومتوسط لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں وہیں مکان مالکان کرایوں کے وصولی کیلئے تمام حدیں پارکررہے ہیں۔بعض معاملات میں ایسانہیں ہے کہ مکان مالک کرایہ لے اور اس کی زندگی چلے،بلکہ یہ لوگ اس قدر لالچی ہیں کہ کوروناکے ایام میں بھی گھر پر گھر تعمیرکرنے کیلئے ایک مہینے کا کرایہ تک بھی بخشنا نہیں  چاہتے۔ایک طرف کوروناکی وجہ سےرات میں سونے والاصبح میت بن رہاہے اوران کے پاس درجنوں فلائٹ ، مکانات اور عمارتیں ہیں،وہ کوروناکی بیماری کا علاج حاصل کرنے کیلئے ایک اسپتال میں بیڈ(بستر) تک حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جو دولت معمولی بستر حاصل کرنے میں ناکام ہے ،اُس دولت کو اکٹھا کرنے کیلئے مجبور کرایوں داروں پر کیوں زبردستی کی جارہی ہے؟۔کئی کرایہ دار جو کورونا کے ان حالات میں مکانات سے بالکل باہربھی نہیں نکل پارہے اور ان کی روزی روٹی بھی مشکل میں ہے ، ایسے میں مکان مالکان فراغ دلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے مارواڑیوں کے باپ بن رہے ہیں۔ایک طرف حکومت کی طرف سے عام لوگوں کو سوائے چاول کے اور کوئی سہولت نہیں دی جارہی ہے،تو دوسری طرف مکان مالکان اپنے کرایوں کی وصولی کیلئے دم پہ دم کرایہ داروں کو پریشان کررہے ہیں۔کرایہ داروں کا کہناہے کہ مکان مالکان کم ازکم ان حالات میں تو رعایت برتیں اور لوگوں کی دعائیں لیں۔