ننگا نہائیگا کیا۔ نچوڑیگا کیا; اردو اکادمی سے اردو ثقافتی پروگراموں کیلئے مانگے گئے تھے نوٹ،ملے ہیں سکّے

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔کرناٹکا اردو اکادمی کی جانب سے سال 22-2023 کیلئے غیر سرکاری اداروں کی جانب سے اردو ثقافتی پروگرامس کے انعقادکیلئے مالی تعائون فراہم کرنے کیلئے عرضیاں طلب کی گئی تھیں جس کے تحت کرناٹک کے17اداروں نے عرضیاں پیش کی ہیں۔لیکن ان عرضیوں پر کرناٹکا اردو اکادمی نے سیدھے طورپر قینچی چلاتے ہوئے مانگے ہوئے روپیوں کے بجائے چند سکے فراہم کررہی ہے اور اس مثال کو ثابت کیاہے کہ ننگا نہائے گاکیا نچوڑے گا کیا؟۔جی ہاں،کرناٹکا اردو اکادمی کی جانب سے امسال اردو اداروں کی جانب سے ادبی و ثقافتی پروگراموں کیلئے عرضیاں طلب کی گئی تھیں جس میں غزل گوئی،قوالی،مشاعرہ، مرثیہ  خوانی اور ڈرامہ کیلئے موقع فراہم کیاگیاتھا۔اس کیلئے حکومت نے15 لاکھ50 ہزار روپئے اس سال کیلئے مختص کئے ہوئے ہیں۔اگست میں اس اسکیم کے تحت فنڈس لینے کیلئے عرضیاں طلب کی گئی تھیں جس کی آخری تاریخ30 ستمبر2022تھی،اس اعلان کے مطابق ریاست کے17 اداروں نے عرضی پیش کی ہے اور ہر جلسے کیلئے ضرورت کے مطابق منصوبہ بناکر اردواکادمی سے مالی امدادپیش کرنے کیلئے مطالبہ کیاتھا،مگر اردواکادمی نے منصوبے سے طئے شدہ رقم کا جائزہ لینے کے بعد اُس میں40 فیصد کی کٹوتی اپنی جانب سے کی ہے،پھر اس میں سے50 فیصد رقم منظور کرنے کا اعلان کیا ہے،جس سے ادارے کوہی قریب70 فیصد رقم اداکرنے کیلئے مجبور ہوناپڑرہاہے۔ہبلی کے نہرو آرٹس سائنس اور کامر س کالج کی جانب سے ریاستی سطح پر مشاعرے کیلئے1 لاکھ روپئے کامطالبہ کیاگیاتھا جس میں اکادمی نے60 ہزار روپئے کے بجٹ کا مشاعرہ طئے کیااور اس کیلئے30 ہزار روپئے منظورکئے ہیں،اس میں سے15 ہزار روپئے پیشگی ملیں گے اور15 ہزار روپئے مشاعرے کے بعد دئیے جائینگے۔اسی طرح سے مہان بھارت ایجوکیشنل ٹرسٹ فیروز آباد گلبرگہ نے 50.1 لاکھ روپئے کا بجٹ پیش کیاتھا،جس میں اکادمی نے 67500 روپئے کا مشاعرہ بنادیااور اس کیلئے 33750 روپئے کا بجٹ منظورکرنے کا فیصلہ کیاہے۔گلبرگہ شاہ آباد کے سمست بہو بند انعامداریاں ٹرسٹ نے مشاعرے کیلئے2 لاکھ روپئے مانگے تھے،مگراکادمی نے63000 روپئے کا مشاعرہ طئے کیااور اس مشاعرے کیلئے 31500 روپئے منظورکرنے کا فیصلہ کیاہے۔یادگیر ضلع کے شورہ پور کے بزم اعجاز ایجوکیشن ٹرسٹ نے مشاعرے کیلئے80.1 لاکھ روپئے کی رقم طلب کی تھی جس کیلئے64500 روپئے کا بجٹ طئے کیاہے اس میں سے32250 روپئے کا تعائون دینے کا فیصلہ اردواکادمی نے کیاہے۔وجئے پورکے ہولی کریسنٹ ایجوکیشنل سوسائٹی نے70.1 لاکھ روپئے مشتمل مشاعرے کا بجٹ پیش کیاہے جس کیلئے اردواکادمی نے40 ہزار روپئے کا بجٹ کافیصلہ کرتے ہوئے ادکامی کی جانب سے20 ہزار روپئے دینے کی بات کہی ہے۔مہاتماگاندھی یوتھ سیوا سنگھ فیروزآبادگلبرگہ کی جانب سے قوالی پروگرام کیلئے80.1 لاکھ روپئے کا منصوبہ پیش کیاگیاتھا جس کیلئے اکادمی نے60 ہزار روپئے کابجٹ طئے کیا ہے اس میں30 ہزار روپئے ادکادمی اداکریگی ۔ محبانِ اردو سکلیشپور نے مشاعرےکیلئے90.1 لاکھ روپئے کا بجٹ بنایاتھا، اس بجٹ کو کاٹ کر اکادمی نے60 ہزار روپئے کا بجٹ بنایاہے اس میں30 ہزار روپئے مشاعرے کیلئے دئیے جائینگے۔آدرش ایجوکیشن اینڈ ملٹی پرپس ویلفیرٹرسٹ جےورگی گلبرگہ نے مشاعرے کیلئے51.1 لاکھ روپئے کا منصوبہ بنایا تھا ، جس میں اکادمی62 ہزار روپئے کا بجٹ طئے کیاہےاس میں 31 ہزار روپئے منظورکرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔مہدویہ سوشیل ویلفیر ٹرسٹ چن پٹن نے مشاعرے کیلئے98.1 لاکھ روپئے کا بجٹ پیش کیاتھا جسے کاٹ کر اکادمی نے45 ہزار روپئے کا بجٹ بنادیاہے اور اس میں 22500 روپئے دینے کا فیصلہ کیاگیاہے۔دارالایتٰمی جمعیۃ الزہرہ بنگلورونے قوالی کے پروگرام کیلئے88.1 لاکھ روپئے کا بجٹ پیش کیاتھا جسے محدود کرتے ہوئے45 ہزار روپئے کا بجٹ بنایاگیاہے اس میں سے 22500 اکادمی دیگی۔بزم غالب بنگلوروکے مشاعرے کیلئے98.1 لاکھ روپئے کا بجٹ بنایاگیاہے،اس سے کاٹ کر اکادمی نے70 ہزار روپئے کردیاہے اور اس میں سے35 ہزار روپئے اکادمی ادارے کو دیگی۔محفل بنگلورونے بھی مشاعرےکیلئے30.1 لاکھ روپئے کا بجٹ دیاتھا، لیکن اسے کاٹتے ہوئے ادکامی نے80 ہزار روپئے کا بجٹ بنایاہے،اس میں 40 ہزار روپئے اکادمی کی جانب سےادارے کودیاجائیگا۔انجمن ترقی اردو شیموگہ نے اساتذہ کیلئے کارگاہ اور مشاعرے کا اہتمام کرنے کیلئے56.1 لاکھ روپئے کامطالبہ کیاتھا جس کیلئے اکادمی نے32 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ کیاہے۔آل انڈیا اردو ویلفیر ڈیولپمنٹ ٹرسٹ دانڈیلی میں مشاعرہ اور قوالی کیلئے95.1 لاکھ روپئے کا بجٹ اکادمی کو دیاگیاتھا،اس میں سے 45 ہزار روپئے کابجٹ اکادمی نے طئے کیاہے اور 22500 روپئے دینے کا فیصلہ اکادمی نے لیا ہے ۔ اینجلس ایجوکیشنل چاریٹبل ٹرسٹ یادگیرنے مشاعرے کیلئے25.2 لاکھ روپئے کا مطالبہ کیا تھا ، ان کے مشاعرے کی قیمت اکادمی نے40 ہزار روپئے لگائی ہے اس میں20 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ اکادمی نے لیاہے۔سب سے خوش قسمت بنگلورو یونیورسٹی ہے جوکہ غیر سرکاری ادارہ نہیں بلکہ باضابطہ طورپر ریاستی ومرکزی امداد سے چلنے والی ایک یونیورسٹی ہے جس نے  غزل مقابلوں کیلئے90 ہزار روپئے طلب کئے اور اکادمی نے90 روپئے کے بجٹ کو قبول کرتے ہوئے45 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے بعد محفلِ نساء بنگلورو نے مشاعرے کیلئے80.1 لاکھ روپئے طلب کئے تھے ، اس میں انہیں صرف25 ہزار روپئے دینے کا فیصلہ لیاگیاہے۔سوال یہ ہے کہ جب اداروں نے اپنی منصوبہ بندی کے مطابق بجٹ بناکر اکادمی کو پیش کیاہے تو کس بنیادپر اکادمی نے علیحدہ اپنا بجٹ بنایاہے اور کیسے ممکن ہے کہ صرف20فیصد مالی تعائون پر کوئی ریاستی سطح یا قومی سطح کا مشاعرہ کرسکتا ہے۔سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیااتنی کم رقم سے کوئی جلسہ کامیاب ہوسکتاہے؟۔اداروں کی جانب سے اتنی کم رقم لیکر پھربھرپور پبلیسٹی کرناٹکا اردواکادمی کو دیناہوگا،اس کے علاوہ حساب کتاب دینے کا سردرد الگ ہے۔کہاوت ہے کہ مکھی کاگوشت کھاکر برہمن نے اپنی ذات خراب کرلی ۔ یہی حال کرناٹکا اردو اکادمی سے معمولی رقم لیکر ادارے بدنام ہونے جارہے ہیں،اگرواقعی میں یہ تمام ادارے اخلاص کےساتھ کام کرنا چاہتے ہیں تو ان کیلئے اکادمی کی مالی امداد کوئی معنی نہیں رکھتی،وہ اپنے طورسے بھی ان پروگرامس کو منعقد کرسکتے ہیں ۔ حالانکہ ان تمام اداروں کو اس معمولی رقم کا قبول کرنا بھی ایک طرح سے توہین ہی ہے،اداروں اور اردو والوں کوکرناٹکا اردو اکادمی سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے؟۔