سید علیم ، صحافت کاایک چراغ بجھ گیا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ : شیموگہ کے صحافتی حلقے میں کئی لوگ گمنام رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں اس قدر مصروف رہ جاتے ہیں کہ وہ اپنی شناخت اپنے کام سے کرتے ہیں اور عام لوگوں کے درمیان انکا اٹھنا بیٹھنا کم ہوتاہے ایسے ہی صحافیوں میں کنڑا صحافی سید علیم ہیں جو تاحیات اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیتے رہے اور کل یعنی 24 نومبر کو مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے کوچ کرگئے ۔ سید علیم جیسے لوگ اور صحافی بہت کم ہیں جو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوںکو ایمانداری کے ساتھ نبھاتے ہیں ، درحقیقت سید علیم کنڑا صحافتی میدان میں رہ کربھی ہمیشہ اپنی ملـی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ،عام طورپر مسلمانوں کے تعلق سے جب کوئی غیر رپورٹنگ کرتاہے تو وہ مسلم صحافیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہیں ایسی صورت میں مسلم صحافیوں کی بہت بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ معلومات دیتے وقت پوری ایمانداری اور سچائی کو بنیا د بنائیں ورنہ سچ کا جھوٹ اور
جھوٹ کا سچ دنیا کے سامنے بکھر جاتاہے ۔ شیموگہ کے صحافتی حلقے میں بھی سید علیم کے رابطے میں کئی صحافی تھے جو مسلمانوں ، اسلام کے تعلق سے معلومات حاصل کیا کرتے تھے ، ان صحافیوں کو تفصیلات دیتے ہوئے سید علیم بہت ہی ہوشمندی سے کام لیتے اور اسلام یا مسلمانوں کی ساکھ پر کوئی آنچ نہ آئے اس بات کاخاص خیال رکھتے ہوئے وہ معلومات دیتے ۔شدید محنت ، جد وجہد اور محدود آمدنی کے باوجود کبھی بھی سید علیم نے بے ایمانی یا رشوت خوری کا دامن نہیں تھاما بلکہ جو کما رہے تھے اسی میں وہ خوش تھے ۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوچکے تھے ، حالانکہ نہ ان میں شراب نوشی کی عادت تھی نہ ہی صحافیوں کی طرح اسموکر ، باوجود اس کے وہ اس خطرناک مرض میں مبتلا ہوگئے تھے اور انہیں اس بات کا علم آخری مرحلے میں ہوا تب تک کوئی علاج انکے کام نہ آسکتاتھا۔ اس شدید مریض کے عذاب سے وہ محض ایک مہینے میں چھٹکا را پاگئے اور مالک حقیقی سے جاملے ۔ اللہ رب العزت انکی مغفرت فرمائے اور انکے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔ شیموگہ کی صحافت سے ایک ایماندار صحافی رخصت ہوگیا یہ ایک صحافتی دنیا کے لئے افسوس کا مقام ہے ۔ ہر جان موت کا مزہ چکنے والی ہے۔