شراوتی بیاک واٹر متاثرین نے جتایاغصہ; زمین کاحق مانگنے کیلئے کانگریس لیڈروں کی قیادت میں جناآکروش یاترا؛ہزاروں کی تھی تعداد

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شراوتی بیاک واٹر متاثرین کو زمین کا حق دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے متاثرین کی بڑی تعداد آج شیموگہ کے آئینوردیہات سے کانگریس پارٹی کے لیڈروں کی قیادت میں جن آکروش آندولن کا اہتمام کیا۔کےپی سی سی کے اوبی سی زمرے کے ریاستی صدر مدھوبنگارپاکی قیادت کی میں یہ یاترا شروع ہوئی جس میں سابق ریاستی وزیر کاگوڈتمپا، کے پی سی سی کے کارگذار صدر دروا نارائن نے افتتاح کیا۔یہ یاتراشیموگہ ضلع کے ساگر، ہوسنگر،تیرتھ ہلی،سورب،شکاری پور تعلقہ کے ہزاروں کسانوں پر مشتمل تھی،جس میں ریاست کو روشن کرنے والے شراوتی باندھ کے متاثرین کو زمین دینے کامطالبہ کیاگیا۔متاثرین کاکہناتھاکہ شراوتی بیاک واٹر متاثرین کو قانون کے مطابق زمین کاحق دیا جائے یاپھر بغیر حکم کاشتکاروں کاحق پتردیا جائے ۔ سابق ریاستی وزیر کاگوڈتمپا اپنی بزرگی کے باوجود اس یاترامیں شریک رہے۔اس موقع پرکارگذار صدردروا نارائن،سابق ریاستی وزیر کیمانے رتناکر،سابق ریاستی وزیر بیلور گوپال کرشنا ،کے بی پرسنناکمار،آر پرسنناکمار،آر ایم منجوناتھ گوڈا،سابق ڈپٹی مئیر محمد ثناء اُللہ سمیت کئی لوگ شریک تھے ۔ کاگوڈتمپانے اس موقع پر کہاکہ ملناڈکے مسائل کو لیکر ہم یہ یاتراکررہے ہیں،سابقہ کانگریس حکومت کے دورمیں کسانوں کو دی گئی زمین کو ریاستی حکومت نے نوٹیفائی کیاہے،اب بھی وقت ہے کہ ریاستی حکومت مرکزی حکومت کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے زمین واپس دلائیں۔
آندولن کے نام پر طاقت کا مظاہرہ؟
شراوتی بیاک واٹر متاثرین کوحق دلانے کے نام پر منعقدہ جن آکروش یاتراکے دوران کسانوں کے مسائل کو لیکر دلچسپی دکھانے والے کم تھے،البتہ آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے ٹکٹ کے دعویداروں کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔پوری یاتراکے دوران ٹکٹ کے دعویداروں نے اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ اپنے لیڈروں کو خوش کرنے کیلئے نعرے بلندکرتے رہے۔ شہربھر میں ڈی کےشیوکماراور سدرامیاکے فلکس اور پوسٹرس دکھائی دئیے ،جس میں ٹکٹ کے دعویدار اپنے حامیوں کے ساتھ پوز دے رہے تھے۔اس کے علاوہ دعویداروں کی جانب سے گل پوشی وشال پوشی کابڑا سلسلہ چلتارہا۔وہیں دوسری جانب کئی لوگ ایسے بھی تھے جنہیں شراوتی بیاک واٹر کا مسئلہ ہی نہیں معلوم تھا نہ ان میں شراوتی بیاک واٹر کا کوئی علم تھانہ ہی کسانوں کے تعلق سے کوئی دلچسپی تھی،بس کانگریسی لیڈروں کو خوش کرنے کیلئے اپنے اپنے علاقوں سے لوگوں کو بھربھرکر لے گئےتھے۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ اس یاترامیں مسلم کانگریسیوں کی بھی بڑی تعدادتھی ،جن لوگوں نے کبھی مسلمانوں کے مسائل پر آکروش کااظہارنہیں کیا،وہ اسمبلی انتخابات کو قریب دیکھتے ہوئے کانگریس کے اجتماعی ایجنڈے پر عمل پیراں ہونے کیلئے آکروش کا مظاہرہ کررہے تھے۔دن بھرسوشیل میڈیامیں تصویروں کی بھرمارتھی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ ہم نے کانگریس میں شامل ہوکر اپنی زندگی کامیاب کرلی ہے۔