شیموگہ : ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ پر ہی قتل کا الزام ہے ، اب اسمیں وانٹڈ کریمنل شامل ہورہے ہیں تو بھاجپا اپنی پاک دامنی کیسے ثابت کریگی ، یہ سوال کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر سدرامیا نے اٹھایا ہے ۔ انہوںنے شیموگہ دورے سے روانگی سے قبل نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا کانگریس پر تنقید کرتی ہے کہ اسمیں جرائم پیشہ لوگ ہیں ایسے میں خود انہیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ امیت شاہ پر قتل کا الزام ہے ، بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور رکن اسمبلی سی ٹی روی بھی ایک غنڈے ہیں اور وہ فرقہ پرست سوچ رکھنے والوں میں سے ہیں تو نہ انہیں سیکولرزم کے معنی معلوم ہیں نہ ہی انہیں آئین کے بنیادی اصول کا علم ہے اس لئے میں ان پر تبصرہ کرنا ہی نہیں چاہتا۔ مزید انہوںنے کہا کہ حال ہی میں ایک بدنام زمانہ غنڈہ اراکین پارلیمان کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے ، جب وہ اراکین پارلیمان کے ساتھ کھڑا رہ سکتاہے تو پولیس کو کیسے ہمت آئیگی کہ وہ ایسے غنڈوں کو گرفتار کریںگے، بی جے پی کہتی کچھ ہے کرتی کچھ ہے ۔ اس سے قبل انہوںنے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگلے اسمبلی انتخابات میں کانگریس سو نہیں دو سو فیصد اقتدار میں آئیگی ، بھاجپا حکومت سے لوگ پریشان ہوچکے ہیں ، یڈویو رپا ، بسوارج بمئی اور ایشورپا نے عوام کے مسائل کو سامنے رکھ کر ووٹ حاصل کئے ہیں نہ کہ انہوںنے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ غریبوں کے لئے میںنے جو چاول دئے ہیں ان مفت چاولوں پر بسواراج بمئ کی بری نگاہ ہے اسی وجہ سے وہ مفت چاولوں کی تقسیم کو ختم کرنا چاہ رہے ہیں ۔ 40 فیصد کمیشن کا الزام لگاکر خود کشی کرنے والے ٹھیکیدار کی موت پر ایشورپا کو ملزم بنانے کے بعد بسواراج بمئی اور یڈی یورپا نے فوراََ یہ جواب دیا تھاکہ ایشورپا اس الزام سے باہر نکلیں گے ، انکے بیان کے بعد ہی پولیس نے ایشورپا کے خلاف دائر معاملے میں بی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہیں الزامات سے بری کردیا اس سے اندازہ ہوتاہے کہ یڈویورپا اور بسواراج بمئی نے ایشورپا کو بچانے کے لئے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا۔
