چھوٹی کوشش بڑا کام

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
کوویڈ 19 کی وباء عام ہونے کے بعد بھارت میں ہر کوئی اپنے اپنے طور پر کسی نہ کسی طریقے سے خدمت خلق کرنے کا جذبہ لئے گھوم رہا ہے۔کچھ لوگ اس خدمت کو بڑے پیمانے پر انجام دے رہے ہیں تو کچھ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق خدمت انجام دے رہا ہے۔ کئی تنظیمیں وادارے کوویڈ کے مریضوں کیلئے اسپتال، کوویڈ کیئر سنٹر، ٹرائیاگ سنٹراورکوئنسلنگ سنٹر بنارہے ہیں تو وہیں کچھ تنظیمیں وادارے آکسیجن سپلائی کررہے ہیں، بعض نے کھانے پینے کا انتظام بھی کیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ مسلمان کوویڈ سنٹر کیوں نہیں بنارہے ہیں، اورمسلمانوں کی تنظیمیں اس معاملے میں پیچھے کیوں ہیں؟۔ کوویڈ سنٹرس اورکوویڈ اسپتال بنانے کے تعلق سے جو سوچ ہے وہ بہت ہی آسان ہے لیکن اس کیلئے جب عمل کی بات آتی ہے تو مشکل ترین بات ہے۔ مشکل ترین اس لئے نہیں کہ مسلمانوں کے پاس طاقت نہیں، ہمت نہیں یا پھر مسلمان جوش سے عاری ہیں بلکہ مشکل اس لئے ہے کہ مسلمانوں کے پاس ان حالات سے نمٹنے کیلئے وسائل کی کمی ہے۔ باربار دوسری قوموں پر انگلی اٹھاکر دکھایا جاتا ہے کہ فلاح قوم یہ کام کررہی ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے، ہم اسلئے نہیں کرسکتےہیں کہ ہماےپاس ڈاکٹروں کی کمی ہے، پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی ہے، صاف صفائی کرنے والے اسٹاف کی کمی ہے۔ ہمارے پاس تہمتیں لگانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمارے پاس بے لوث خدمت کرنے والوں کو ذلیل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، ہمارے پاس چندہ خوروں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمارے پاس رکاوٹیں ڈالنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اوران سب کے باوجود کوئی کام شروع بھی کرتا ہے تو وہاں سے فائدہ اٹھانے والے احسان مند ہوکر نہیں جائیں گے بلکہ احسان فراموش ہوکر خدمت کرنے والوں کی 7 پشتوں کو گالیاں دے کر بگھار کر اونچ نیچ بیان کرکے جانے والوں کی کثرت ہے۔ اس لئے مسلمان اس کام کو آسانی کے ساتھ انجام دے نہیں سکتے، ہاں یہ کام وہ لوگ ہی انجام دے سکتے ہیں جو اپنے مال کو خرچ کرکے ، محدود افراد کو لیکرآگے بڑھنے والوں میں سے ہوں، سب کو لیکر کام کرنا مشکل بات ہےکیونکہ مجموعہ سے صرف آواز نکلتی ہے، انقلا ب نہیں، انقلاب یا تبدیلی لانے والاایک ہوتا ہے انیک نہیں۔ ہمارے سامنے مثال پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہے۔ جنہوں نے اسلامی انقلاب لایا۔ ہمارے سامنے حضرت ٹیپو سلطان کی مثال ہے جنہوں نے جنگ آزادی کا انقلاب لایا۔ ہمارے سامنےبیت المقدس کی فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ علیہ کی مثال ہے جنہوں نے بیت المقدس فتح کیا تھا۔ ہمارے سامنے مسلونی ، ہٹلر، سکندراعظم کے علاوہ درجنوں ایسی تاریخی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے بل بوتوں پر انقلاب لایا تھا۔ اس لئے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں تو ہم کوئی کام پر نکل رہے ہیں تو بہت بڑے ہجوم کی توقع ،یا گروہ توقع نہ کریں بلکہ مختصر اورہم خیال لوگوں کا ساتھ لیں آگے بڑھتے جائیں، یقیناً یہ کامیابی کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوویڈ کے ان حالات میں مسلمان کریں تو کیا کریں اورکسطرح سے قوم وملت کے مسائل کو حل کریں۔ یقیناً خدمت خلق اسوقت بہت ہی اہم ذمہ داری ہے۔اس ذمہ داری کو اٹھانے کیلئے مسلمان ہرگز ، ہرگز بھی پیچھے نہ ہٹیں، اپنے محلوں میں موجود کوویڈ کے متاثرہونے والے افراد کے گھروں کو جائیں، دیکھیں کہ انکی مالی حالت کیاہے، کیا باپ کے اسپتال میںجانے سے بچے بھوکے تو نہیں رہ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو انکے گھر میں راشن کا انتظام کروائیں، اگر ماں اسپتال میں ہے پکانے والاکوئی نہیں تو انکے لئے پکوان کرواکر بھیجا جائے۔ اگر اخراجات کیلئے پیسے نہیں ہیں تو گھر کا خرچ چلانے کیلئے کچھ پیسے دے دیں تاکہ اسپتال میں زیر علاج مریض سکون سے بے فکر ہوکر علاج کریں۔ اگر کوویڈ کا مریض مرجاتاہے تو اس گھر کا بائیکاٹ نہ کریں بلکہ انکی دور سے ہی سہی ہمت افزائی کریں اگر بیواہ ہوں کوئی دیکھنا والانہ ہوں تو عدت تک راشن کی سہولت فراہم کریں، اخراجات کا انتظام کریں، چھوٹے بچے ہوں تو انکی تعلیم کے تعلق سےہمت افزائی کریں اورانتظامات بھی اگر جواں عورتیں بیواہ ہوتی ہیں تو انکے لئے نکاح کے انتظامات کریں۔ اگر انہیں کرائے کی ادائیگی میں تکلیف ہورہی ہے تو مکان مالکان سے بات کریں کرایہ معاف کروائیں، اگر مکان مالک انسانی دل نہیں رکھتا ہے تو چندہ اکٹھا کرکے اسکا کرایہ ادا کریں۔آکسیجن سلنڈرمہیا کرنا، کم داموں میں ایمبولنس کی سہولت فراہم کرنا، گھروں تک آکسیجن یونٹس فراہم کرنا، کونسلنگ سنٹر قائم کرنا یہ بنیاد کام ہیں انہیں انجام دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام سننے کیلئے بہت چھوٹے چھوٹے ہیں لیکن کرنے کیلئے بہت بڑے بڑے کام ہیں اس سے پورے معاشرے کو طاقت دی جاسکتی ہے اورقوم میں یہ تصور پیدا کیا جاسکتا ہے کہ قوم ہمیں بے وارثی نہیں چھوڑے گی۔ اگر یہ تصور یہ سوچ لیکر آج ہم کام کرنا شروع کرتے ہیں تو یقینا ہم آگے چل کربڑے کام آسانی کے ساتھ انجام دئے جاسکتے ہیں۔ بڑے کام کی شروعات کرنا آسان ہے، لیکن اسے کامیاب کرنا اسلئے مشکل ہے کہ جن کے بھروسے پرہم کام شروع کرتے ہیں وہی ہاتھ دے دیتے ہیں۔ اسکی اچھی مثال یہ بھی ہے کہ اتر پردیش کے سابق ریاستی وزیر عاظم خان نے اقلیتوں کیلئے مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام اوراس یونیورسٹی میں اقلیتی طلباء کو تعلیم مہیا کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ بھلے ہی اس یونیورسٹی کو بنانے کا طریقہ کار درست نہیں تھا لیکن جو کام انہوں نے شروع کیاتھااس سے بنیاد بناکر آج انہیں جیل میںرکھا گیا ہے اورانکی یونیورسٹی کو بند کرنے کا علان کیا ہے ۔ عاظم خان سمجھتے تھے کہ انکی یونیورسٹی پر اگر کوئی آنکھ اٹھاکر دیکھے گا تو پوری قوم دفع کیلئے آگے آئےگی۔ لیکن ایسا نہیںہو ا، عاظم خان نے اپنی تحریک کو چھوٹے پیمانے پر بڑھاوا نہیں دیا اگر وہ ایساکرتے تو آگے چل کر بڑا کام بن کر ابھرسکتا تھا لیکن اب بڑا کام ممکن نہیں ہے۔