دہلی:۔سنجیو صرّاف نے جب ریختہ ویب سائٹ شروع کی تو ایک انجینئر ہونے کی وجہ سے ان کا خواب تھا کہ یہ ویب سائٹ اردو زبان نہ پڑھ سکنے والوں کی بھی سمجھ میں آئے، فارسی کے شعر بدل کر دیوناگری اور رومن کی شکل میں لکھنا تو زیادہ مشکل نہیں تھا لیکن وہ چاہتے تھے کہ ویب سائٹ پر ایک ڈِکشنری بھی ہو جس سے ہر لفظ کا معنی پڑھنے والاسمجھ پائے، مگر یہ ایک مشکل ترین مسئلہ تھا۔ایسا شخص کہاں ملتا جسے کمپیوٹر کی کوڈِنگ اس درجہ آتی ہو کہ ریختہ جیسی شاندار ویب سائٹ سنبھال سکے اور ساتھ ہی وہ اردو، ہندی، فارسی اور انگریزی کی اِتنی سمجھ رکھتا ہو کہ ڈِکشنری تیار کرا سکے، ایسے میں سنجیو صرّاف کی ملاقات ہوئی iit Bombay سے کمپیوٹر انجینئر اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں تعلیم حاصل کر رہے ایک نوجوان سے، اس لڑکے کو نہ صرف اعلیٰ درجے کی کوڈِنگ آتی تھی بلکہ وہ اردو، عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی جیسی کئی زبانیں جانتا تھاسنجیو صرّاف نے اُس لڑکے سے بات کی، بات تھی اردو زبان کی خدمت کی، اُس لڑکے نے معمولی سے محنتانہ پر یہ ذمہ داری لے لی اور دیکھتے ہی دیکھتے ریختہ میں جان پھونک دی اور ہر کام کو بخوبی انجام دیا، ریختہ ویب سائٹ کو 11 جنوری 2013ء کو قائم کیا گیا تھا۔ہر سال کی طرح اِس سال بھی جشنِ ریختہ منایا گیا، ہزاروں کی بھیڑ جمع ہوئی، لاکھوں لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں گے، کئی طرح کے پروگرام ہوئے ہوں گے، لیکن وہ لڑکا کسی کو یاد نہیں ہوگا جس نے ریختہ ویب سائٹ کو اردو اور غیر اردو داں طبقے کے لئے آسان ترین بنایا اور نہ ہی ریختہ ویب سائٹ نے کبھی اُس لڑکے(اصلی ہیرو)کا نام لیا، آپ جانتے ہیں وہ لڑکا کون ہے، وہ لڑکا شرجیل امام ہے۔
