ماہم کی درگا ہ میں عرس کا آغاز ؛ پولیس نے دی سلامی

سلائیڈر نیشنل نیوز
ممبئی : بھارت میں ایک ایسا مزار ہے جہاں سب سے پہلے پولیس دیتی ہے سلامی-جہاں  وردی پوش قطار میں  ہوتے ہیں سب سے آگے – جو پیش کرتے ہیں مزار پر پر صندل کا نذرانہ -پولیس کی سلامی اور بینڈ کے بعد ہی درگاہ پر ہوتا ہے دس روزہعرس کا آغاز ۔جی ہاں! یہ ہے عروس البلاد کہلانے والی ممبئی کے ماہم ساحل سمندر پر واقع عالمی شہرت یافتہ صوفی حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمیؒ کا سالانہ میلہ کورونا کے  دو سال بعد روایتی جوش وخروش کے ساتھ شروع ہوگیا ۔یاد رہے کہ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں پہلا صندل ممبئی پولیس کی جانب پیش کیا جاتا ہے -اس کے بعد میلہ کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے -اس کے لئے ممبئی پولیس نے تمام تر تیاریوں کے ساتھ جمعرات کی شام  درگاہ پر سلامی پیش کرنے کے ساتھ سب سے پہلے صندل پیش کیا۔ہر سال پولیس گلہائے عقیدت پیش کر نے کے لئے آستانہ مخدوم پر صندل پیش کرتی ہے اور روایتی سلامی دیتی ہے اس کے ساتھ ہی یابابا مخدوم کی دھنوں پر پولیس کا ڈھول بجایا جاتا ہے جو کافی مقبول بھی ہے۔  صندل کمیٹیوں کے ساتھ پولیس بھی صندل پیش کر تی ہے لیکن یہ فخر پولیس کو حاصل ہے کہ سب سے پہلا صندل انہیں کا پیش ہوتا ہے اس کے بعد دیگر صندل کمیٹیاں اپنا صندل پیش کرتی ہیں یہ ایک قدیم روایت ہے۔پولیس کو چادر چڑھانے کا پہلا موقع دینے کے پیچھے مختلف آراء ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بابا مقدوم شاہ پولیس والوں کے بہت قریب تھے اور اکثر مجرموں کو پکڑنے میں پولیس والوں کی مدد کرتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بابا کے آخری وقت میں ایک سپاہی نے انہیں پانی پلایا تھا۔دوسری جانب کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب 1980 میں ممبئی میں فسادات ہوئے تھے تو اس وقت کے پولیس کمشنر نے یہاں آکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی منت مانی تھی اور چند گھنٹوں بعد ہی فسادات ختم ہوگئے تھے۔ تب سے عرس شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے یہ خصوصی اعزاز پولیس اہلکاروں کو دیا جاتا ہے۔مخدوم مہائمی کا نام علاؤ الدین اور علی ہے۔ مخدوم مہائمی کا خاندان  نوائطی کہلاتاہے۔ قبیلہ نوائط کے کچھ تاجر مدینہ منورہ سے آکر خطہ کوکن (ممبئی) میں آباد ہو گئے تھے۔ا