نجی تعلیمی ادارے اپنے طورپر منصفانہ فیس طئے کرسکتے ہیں:ہائی کورٹ کافیصلہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ نے آج ان ایڈیڈ تعلیمی اداروں کے تعلق سے ایک اہم فیصلہ سُنایاہے،جس میں نجی تعلیمی اداروں کو اس بات کااختیاردیاگیاہے کہ وہ اپنے طورپر منصفانہ فیس طئے کرسکتے ہیں،اس سے پہلے محکمہ کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کی فیس طئے کی جاتی تھی۔کرناٹکا ان ایڈیڈ اسکولس مینجمنٹ اسوسیشن(کوسما) سمیت کئی نجی تعلیمی اداروں نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں عرضی دائرکی تھی جس کی شنوائی جسٹس آلوک آردھیانے کی اور آج اس تعلق سے فیصلہ سُنایاہے۔کرناٹکا کے ان ایڈیڈ تعلیمی اداروں کو اپنے طورپر فیس طئے کرنے کااختیاردیتے ہوئے عدالت نے کرناٹکا ایجوکیشن آیکٹ1983 کے بعض شق غیر آئینی ہیں،کرناٹکا ایجوکیشن آیکٹ1983 کی شق3/2کیA سے لیکر Hتک،سیکشن 7 کی شق1 میںA سے لیکر Iتک،سیکشن 38 کی شق41کی 2/B اورشق41 کی شق5،سیکشن 42،43،44،48اور67 کی قانونی اہمیت کو لیکر عدالت میں سوال رکھاگیاتھا۔کرناٹکا ایجوکیشن آیکٹ1983 کے1995کے قانون کے مطابق سیکشن10 کی شق 3C اور2کے مطابق منظوری لینے والے ان ایڈیڈ ایجوکیشن انسٹیٹیویٹ کوسالانہ600 روپئے کی فیس لینے کی شرط منسوخ کی گئی ہے اور او۔ایم۔پئی فائونڈیشن کے کیس میں سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سُنایاہے،اس کےمطابق اس قانون کومزید قائم رکھنا ناممکن ہے۔اسی طرح سے عدالت نے بتایاکہ1995 کے قانون کی شق10 (3A)اور 1999کے قانون کی شق4(4)کے مطابق ٹیوشن فیس کی شرح صرف10 فیصد لینے کا حکم منسوخ کیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ یہ قانون غیر امدادی اسکولوں کیلئے ممکن نہیں ہے،اس کے علاوہ عدالت نے کہاہے کہ اسکول اپنے طورپر منصفانہ فیس کو طئے کرسکتےہیں۔اس حکم کے بعد نجی تعلیمی اداروں کو اختیارہے کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں کی فیس اپنے طورپر طئے کرسکتے ہیں۔قیاس آرائیاں کی جاسکتی ہیں کہ نجی تعلیمی ادارے عدالت کے اس فیصلے کوبنیادبناکر فیس کو طئے کرنے میں من مانی کرینگے۔