قوم کو پسماندگی سے نکالنے کیلئے تعلیمی اداروں کا قیام کریں:انجینئر محمد ابراہیم

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
خادمِ ملت اقبال حبیب سیٹھ کی صدارت میں امپیریل پی یوکالج کی نئی عمارت کاافتتاح،
نمایاں کامیابی حاصل کرنےوالے طلباء کوانعامات،اساتذہ کی بھی ہمت افزائی 
شیموگہ:۔قوم کو پسماندگی سے نکالنے کیلئے تعلیمی اداروں کا قیام کرنے کی اشد ضرورت ہے،آزادی کے 75سال بعد بھی مسلمانوں کے محدود تعلیمی ادارے ہیں جو کہ افسوسناک بات ہے۔قوم کے مالدار طبقے کو بے لوث خدمات انجام دیتے ہوئے تعلیمی اداروں کو قائم کرنےا ور موجودہ تعلیمی اداروں کوترقی دینے کیلئے آگے آناہوگا۔اس بات کااظہارایم جی گروپس کے ایم ڈی انجینئر محمدابراہیم نے کیاہے۔انہوں نے آج شہرکے امپیریل ایجوکیشن فائونڈیشن کے امپیریل سائنس اینڈکامرس پی یو کالج کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کے طورپر شرکت کرتے ہوئےکہاکہ آج اُمت مسلمہ کو ڈپریشن کا شکارہے،اس ڈپریشن سے نکالنے کے لئے قرآن میں حل بتایاگیاہے، حالات کے مدِ نظر ہمیں قرآن شریف کو معنوں سے پڑھیں، اس طرح سے حالات کو سدھارنے کیلئے حل نکل آئیگا، نوجوان اورطلباء اپنے مستقبل کو سدھارنے کیلئے اپنے آپ کو قرآن سے جوڑیں۔ جو قوم پچھڑی ہوئی ہوتی ہے انکی صبح زوال ے بعد ہوتی ہے۔ آج ہم نے دن اور رات کو بدل دیا ہے، ہم راتوں کو جاگ رہے ہیں، دن میں تاخیر سے اٹھ رہے ہیں، اس سے برکتیں اٹھ رہی ہے، جو صبح اٹھے گا، شام کواپنے بچوں کی تربیت کیلئے وقت نکال سکتاہے اور وہی شخص کامیاب ہوگا۔ بحیثیت قوم آ ج مسلمان یتیم ہوچکے ہیں، ہماری نمائندگی اور بات رکھنے والا کوئی نہیں ہے، دولتمند لوگوں کو اللہ نے یتیموں کی کفالت کے لئے کہا ہے، آج قوم کی حالت بھی ایک طرح سے یتیم اور لاچار ہوچکی ہے،ہمارے بچوں کی تباہی کا سبب جہاں خود بچے اور والدین ہیں وہیں ہمارا سماج بھی اسکے لئے ذمہ دار ہے۔ اللہ نے قرآن میں کہہ دیاہے کہ اے مومنوں، میں نے جو تمہیں دولت دی ہے اسے خرچ کرو، اگرایسا نہیں کرتے ہوتوتم ظالموں اور کافروں میں شمار ہوجائو گے ۔ قرآن میں واضح طورپر مال کو خرچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے،لیکن ہم میں سےکئی لوگ اب بھی اپنے مال دولت کو تجوریوں میں محفوظ کرناہی حکمت سمجھاہے۔ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کی کمی ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے قوم کو آگے آنے کی ضرورت ہے، ہمارے یہاں بڑی بڑی مسجدیں تو بنائی گئی ہیں، لیکن وہاں کے علماء کے حق کو چھینا گیاہے، علماء کی تنخواہ ایک مزدور سے کم ہے جو افسوسناک بات ہے، اسکے لئے ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر سال 80-90 ہزار علماء فارغ ہورہے ہیں، ان علماء کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچائیں ۔ علماء کے بعد ہم نے اپنی قوم کے اساتذہ کے حقوق کو چھیناہے،کم تنخواہ میں ان سے محنت کروائی جارہی ہے اور انہیں اچھی تنخواہوں سے محروم رکھا گیاہےاس طرح کا رویہ اختیار کرنے پر ہم سے اللہ کا سوال ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہےکہ مسلمان اپنے وجود کو بچانے کیلئے اور دوسری قوموں سے سبقت حاصل کرنے کیلئے تعلیمی اداروں کو معیاری سطح پر بنائیں۔اس موقع پرادارے کے سکریٹری ادریس شریف نے امپیریل ادرے کا خاکہ پیش کیا،جس میں مسلم نسل کو تعلیم سے آراستہ کرنے کا منشاء ظاہرکیااور انہوں نے بھی سماج کے ہر طبقے سے مسلم تعلیمی اداروں کومضبوط بنانے کی اپیل کی۔اس افتتاحی تقریب میں امپیریل کالج میں نمایاں کاگردگی کرنےوالے طلباء کونقد انعامات سے نوازاگیاجبکہ کالج میں نمایاں خدمات انجام دے رہے عملے کو اعزازات سے نوازاگیا۔اس جلسے کی صدارت خادمِ ملت اور امپیریل فائونڈیشن کے چیرمین اقبال حبیب سیٹھ نے انجام دی۔اس موقع پر امپیریل ایجوکیشن فائونڈیشن کے وائس چیرمین عبدالرحمان شریف(انصر)،خزانچی قادر باشاہ،ڈائریکٹر عبدالعزیز بھیا،سیدغفورچھوٹو،محمد لیاقت،محمد مجیب اُللہ،حاجی سلیمان سیٹھ،مدثراحمد موجودتھے۔مہمانان کے طور پر عبدالطیف تنگل اورقطب الدین بخاری تنگل شریک رہے۔ جلسے کاآغاز محمد افنان کی قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا،نعت زیباءفرحین نے پیش کی،نظامت آئینہ خان کی رہی ،استقبالیہ کلمات فاطمہ خان نے پیش کئے جبکہ مسکان نے تمام کاشکریہ اداکیا۔نمایاں کامیابی حاصل کرنےو الے عبداللہ صہیب (سائنس ٹاپر)، محمد افنان (کامرس ٹاپر) سیدہ امرین( میاتھس میں صد فیصد کامیابی) ،عبدالرحیم (میاتھس99 فیصد ) کونقد وانعامات سے نوازاگیا۔