کاروار:۔ اگلے اسمبلی الیکشن کے لئے بی جے پی کی طرف سے ضلع شمالی کینرا میں کونسا سیاسی کارڈ کھیلا جائے گا اس پر الگ الگ زاویے سے باتیں سننے میں آ رہی ہیں ۔ اس میں سے دو اہم خبریں یہ ہیں کہ ضلع شمالی کینرا سے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کا نام اب سیاسی میدان سے پوری طرح غائب ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ دوسری خبر یہ ہے کہ موجودہ رکن اسمبلی اور اسپیکر وشویشورا ہیگڈے کاگیری کو اگلا وزیر اعلیٰ بنانے یا پھر اننت کمار کی جگہ رکن پارلیمان بنا کر ریاستی سیاست سے ملکی سیاست میں بھیجنے پر بی جے پی میں غور و خوص چل رہا ہے ۔ جہاں تک اننت کمار ہیگڈے کا تعلق ہے انہوں نے خود ہی سیاسی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو الگ کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ بی جے پی کی قیادت نے اننت کمار ہیگڈے کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائی ہے ۔ انہیں دیا گیا وزارت کا قلمدان واپس لینے سے بھی وہ دلبرداشتہ ہوگئے ۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن کے موقع پر سیاسی گلیاروں میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ اننت کمار کو ریاستی وزیر اعلیٰ کے طور آگے بڑھانے پر بی جے پی کےحلقوں میں غور ہو رہا ہے ، لیکن بعد میں یہ بات آئی گئی ہوگئی ۔ اس مرتبہ جو اسمبلی الیکشن ہونے جا رہا ہے اس میں اننت کمار کا نام بھی کسی بھی حوالے سے سرخیوں میں نہیں دکھائی دیتا ۔ اس کے علاوہ اہم نکتہ یہ ہے کہ اننت کمار ہیگڈے کسی مرض کا شکار ہیں اور ان کی صحت اب جواب دے رہی ہے ۔ ان سب باتوں کے ساتھ اننت کمار نے خود ہی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پارلیمانی الیکشن میں امیدوار بننے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔ ان حالات میں شمالی کینرا کے ایک تجربہ کار اور سینئر سیاست داں کے طور پر سرسی کے رکن اسمبلی وشویشورا ہیگڈے کاگیری کا نام بی جے پی کے سیاسی محاذ پر بڑی اہمیت کے ساتھ زیر بحث آ رہا ہے ۔ خبر گرم ہے کہ آئندہ وزیر اعلیٰ کے طور پر دھارواڑ حلقہ کے رکن اسمبلی پرہلاد جوشی کا نام پیش ہونے پر جو مخالفت شروع ہو رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے اب پرہلاد کی جگہ پر وشویشورا ہیگڈے کاگیری کو وزیر اعلیٰ بنانے کے سلسلے میں غور کیا جا رہا ہے اور سرسی – سداپور حلقہ سے انہیں اسمبلی الیکشن میں اتارنے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی میں اس پہلو سے بھی غور ہو رہا ہے کہ اگر واقعی اننت کمار ہیگڈے عملی سیاست سے کنارہ کش ہوتے ہیں تو ان کی جگہ پر کینرا پارلیمانی حلقہ سے وشویشورا ہیگڈے کاگیری کو میدان میں اتارا جائے اور انہیں ریاستی سیاست سے ہٹا کر ملکی سیاست کا حصہ بنایا جائے ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب سیاسی بساط پر چال چلنے کی تیاریاں ہیں ۔ اصلی کہانی تو انتخابی عمل شروع ہونے پر ہی عوام کے سامنے آئے گی ۔
