لندن:۔عالمی سطح پر عام لوگوں کو جس بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا ہے ایسی صورتِ حال گزشتہ کئی دہائیوں میں سامنے نہیں آئی۔ دنیا بھر میں خوراک، ایندھن، نقل و حمل اور رہائش کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی میں کمی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ اس کے اثرات مزید سنگین ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے نزدیک عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بحران کے اسباب کی بات کی جائے تو صرف دو لفظ صورتِ حال کو واضح کردیتے ہیں: وبا اور جنگ!کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے قابو میں آنے کے بعد وبا کے دوران افراطِ زر میں آنے والی کمی اور کم شرحِ سود میں ایک بار پھر اضافہ شروع ہوا۔ لاک ڈاؤن کے دوران حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو کاروبار اور عام لوگوں کی مدد کے لیے کھربوں خرچ کرنا پڑے۔ اس لیے زندگی معمول کی جانب لوٹتے ہی انہیں شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔وبا کے بعد دنیا بھر میں کاروباری مشکلات بڑھی ہیں اور جائیداد کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں طلب و رسد کا توازن بھی اس طرح بگڑا ہے کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2021 میں جب دنیا بھر سے لاک ڈاؤن ختم ہورہے تھے تو معاشی ترقی کی شرح 80 برس کے دوران تیز ترین رفتار سے بڑھ رہی تھی۔ تجارتی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں۔دنیا بھر میں فیکٹریاں کرونا سے بچاؤ کے قواعد پر عمل درآمد کی وجہ سے افرادی قوت کی کمی، نقل و حرکت میں دشواریوں اور صحت عامہ کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھیں۔ ایسے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اشیا کی طلب پوری کرنے کے لیے صنعتوں کا پہیہ ایک بار پھر چلنا شروع ہوا تو یکدم پیداواری سرگرمیاں بڑھنے سے توانائی کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے پیدا ہونے والی یہ مشکلات کم نہیں ہوئی تھیں کہ رواں برس فروری میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد مغربی ممالک کی روس پر پابندیوں کے سبب تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
