بنگلورو:۔کرناٹک میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کی کم وبیش ہر ذات ، ہر قوم اپنے سیاسی،سماجی اور تعلیمی حق کیلئے آواز اٹھارہی ہیں۔دلت،اوبی سی اور ایس ٹی سماج کے پاس اپنا علیحدہ ریزرویشن ہونے کے باوجودوہ اپنے افزود ریزرویشن کیلئے مطالبے کررہے ہیں۔ان کے مطالبات کو پوراکروانے کیلئے نہ صرف ان کی قوم کے سیاسی وسماجی لیڈران پیش پیش ہیں بلکہ ان کے مذہبی پیشواء،سادھو سنتھ اور مٹھوں کے سربراہان بھی میدان میں اترچکے ہیں۔ریاست کے مختلف مقامات پر ایس سی ایس ٹی اور اوبی سی کی وہ ذاتیں جن کا نام بھی شائد ہی کسی نے سُناہوگا،وہ اپنے حقوق کو منوانے کیلئے حکومتوں پر مسلسل دبائو ڈال رہی ہیں۔ان تمام کے درمیان اگر کوئی قوم پیٹ بھری،خوشحال،سست مست اور روایتی نوابوں کا چلن دکھا رہی ہے تو وہ مسلمان قوم ہے جس میں نہ تو اپنے سیاسی ،سماجی اور تعلیمی حق مانگنے کا جذبہ دکھائی دے رہاہے اورنہ ہی یہ لوگ اپنے چھینے ہوئے حقوق کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش ظاہرکررہے ہیں۔ریزرویشن مانگنے کی تو دورکی بات،طلباء کیلئے جاری کئے گئے اسکالرشپ کو منسوخ کرنے کے بعد اسے دوبارہ بحال رکھنے کیلئے کسی نے بھی اپنی طرف سےکوشش نہیں کی ہے۔سچرکمیٹی کی سفارشات کے مطابق مسلمانوں کی حالت ایس سی ایس ٹی سے بھی بدترہےاور انہیں تمام طرح کی سہولیات ملنی چاہیے۔سابقہ حکومتوں نے جو سہولیات (برائے نام ہی صحیح) مسلمانوں کو دی تھیں وہ بھی اب چھین لی گئی ہیں۔پہلی تا آٹھویں جماعت کے طلباء کے اسکالرشپ کو ختم کردیاگیاہے،پوسٹ گرایجویشن اور پی ایچ ڈی کیلئے دی جانےو الی اسکالرشپ اورفیلو شپ کو ختم کردیاگیاہے،مسلمانوں کے موجودہ ریزرویشن میں تخفیف کی جارہی ہے مگر مجال ہے کہ مسلم قائدین،سماجی کارکنا،دانشوران اور مذہبی رہنمائوں کی جانب سے اس سمت میں حکومتوں کو بآور کیاجائے۔تمام قومیں اپنے حق کیلئے چیختی چلارہی ہیں،لیکن مسلمان قوم چپ چاپ بیٹھی ہوئی ہے۔دوسری جانب مسلمانوں کا دانشورطبقہ جلسے واجلاس کی رونق بن رہاہے تو وہیں دوسری جانب سماجی وسیاسی طبقہ اپنےآپ کو اگلے اسمبلی انتخابات کیلئے تیارکررہاہے۔وہ تنظیمیں جو کانگریس اوردیگر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کیلئے فتوے جاری کرتی رہی ہیں،اُن کی جانب سے بھی اس تعلق سے خاموشی اختیارکی گئی ہے۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا واقعی میں مسلمان اپنے تمام حقوق کوحاصل کرچکے ہیں جو اس قدر خاموش ہوچکے ہیں۔
