بنگلورو:۔ملک کی ریڑھ کی ہڈی مانے جانےو الے کسان مسائل میں الجھ چکے ہیں،کسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کسانوں کے مطالبات کو پوراکرے۔اس بات کامطالبہ ویلفیرپارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر اڈوکیٹ طاہرحسین نے کیاہے۔انہوں نے یہاں فریڈم پارک میں منعقدہ عالمی یوم کسان کے موقع پر کسانوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کے کسان مختلف مسائل سے جوج رہے ہیں،لیکن حکومتیں ان کے مسائل کوحل کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں اور لاپرواہی برت رہی ہیں۔پنجاب اور ہریانہ سمیت ملک کے مختلف علاقوں کے کسانوں نے دہلی کی سرحد پر ایک سال سے زیادہ عرصے تک احتجاج کرتے رہے،لیکن ان کے مسئلے کو حل کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے۔کسانوں کی فصلوں کو معقول قیمت دینے کے علاوہ دیگر مسائل پر سوامی ناتھن کمیشن نے کئی سفارشات کئے ہیں،لیکن اب تک ان سفارشات کو جاری نہ کرتے ہوئے حکومتیں ٹال مٹول کررہی ہیں اور اس سازش کے پیچھے کارپوریٹ سرمایہ داروں کا ہاتھ رہنے کی بات منظرِ عام ہے۔کسانوں کی کاشتکاری کی زمین کو دستاویزات دینے کیلئے چالیس تا پچاس سال سے کوششیں کی جارہی ہیں،لیکن کسانوں کودستاویزات نہ دینا ایک المیہ ہے۔کرناٹک کے گناکسانوں کی بقیہ رقم1914.22کروڑ روپئے ہے،کسان اپنی بقیہ رقم کووصول کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن مالکان یہ رقم نہیں دے رہے ہیں،قانون کے مطابق گنا کسانوں کو14 دنوں میں رقم اداکرناہے لیکن سالوں سے کسانوں کورقم نہیں مل رہی ہے،مگر ا س پربھی حکومت خاموشی اختیارکی ہوئی ہے۔مکمل زمین کے معاملات میں سدھارلانے کیلئےقانون بنانے سے ہی زمینوں سے محروم کسانوں کے مسئلے حل ہوسکتے ہیں،اسی طرح سےزمینوں کو آبپاشی کی زمینیں بنانے میں بھی حکومتیں ناکام ہوئی ہیں۔اے پی ایم سی کے انتظامات کو نجی کاری کی جارہی ہے جو خطرے کی نشانی ہے،جس میں بجلی کی فراہمی بھی محفوظ نہیں ہے۔کسانوں کی خودکشی کو روکنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے،کسانوں اور خواتین کسانوں پر حملےاور قتل کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور کارپوریٹ کمپنیاں زراعتی حلقوں میں جو لوٹ مچارکھی ہے وہ ایک طرح سے استحصال ہے۔حالیہ این سی آربی کی رپورٹ کے مطابق سال21-2020 میں کرناٹک کے کسانوں کی خودکشی کی شرح9.19 فیصدہے جو ملک میں دوسرے نمبر پرہے،اس رپورٹ کے مطابق جملہ10881 کسانوں نے خودکشی کی ہے،جس میں9.19 فیصد (2165) کرناٹک کے کسانوں نے خودکشی کی ہے۔دراصل امسال بھی719 کسانوں نے خودکشی کی ہے،اسی طرح سے سال15-2014 میں93،16-2015 میں1062،17-2016 میں932،18-2017 میں1052،19-2018 میں 868،19-2020 میں882،21-2020 میں566،22-2021 میں719 کسانوں کے خودکشی کے معاملات درج ہوئے ہیں۔ویلفیر پارٹی آف انڈیانے مطالبہ کیاہے کہ حکومت نے ایم ایس سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کو ایمانداری کے ساتھ نافذکرے،ہر کسان کو پانچ ایکر زمین مہیاکرنے کیلئے لیانڈ ریفارم ایکٹ کو جاری کرے،زمین اور گھر سے محروم مسئلے کو معقول معاوضہ دیکر حل کرے،چالیس سے پچاس سالوں سے کاشتکاری کررہے کسانو ں کو فوری طورپر دستاویزات مہیاکرے،زراعتی اشیاء کو پیداوارکے اخراجات کی بنیاد پر قیمت طئے کریں،آبپاشی سے محروم زمینوں کو پانی مہیا کریں۔اس موقع پر ویلفیر پارٹی آف انڈیاکے ریاستی جنرل سکریٹری حبیب اُللہ خان،شعبہ خواتین کی ریاستی صدر طلعت یاسمین،ریاض پاشاہ،محمد فضل حُسین،حُسین،الیاس وغیرہ موجودتھے۔
