ملک کے روشن مستقبل کیلئے کانگریس ضروری:عبدالجبار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

داونگیرے:۔بھارت کے اکثر باشعور افرادو اداروں کے ذمہ دار یہ محسوس کررہے ہیں کہ ملک کے روشن مستقبل کے لئے کانگریس ضروری اور کانگریس سے لوگ اپنی اُمیدین لگائے ہوئے ہیں جمہوریت کے مدِ مقابل کالے اور غیر معقول قوانین کا نفاظ بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی لاقانونیت ظلم و ناانصافی ماضی قریب کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جہان کثیر نظریات پر حامل افراد کے درمیان جو باہمی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اشتراک و تعاؤن پایا گیا وہ سارا چور چور ہونے کے قریب پایا جارہا ہے ،دستورِ ہند میں ہر شہری کے اپنے بنیادی حقوق اور تمام طبقات کے اپنے مذہبی ،لسانی،و سماجی حقوق کو جمہوریت میں باقاعدہ جگہ دی گئی ،مگر پچھلے نو سالوں میں جمہوریت کی جس طرح دھجیاں بکھیری گئی اس سے ملک کا ہر ذی شعور انسان حیران و ششدر ہے،سماج میں آپسی دوریاں ،ایک دوسرے کے تین نفرت کا ماحول جو پیدا کیا جارہا ہے،ظلم ناانصافی ،بے روزگاری ،معاشی بدحالی و بدعنوانی کا بول بالا خواتین پر ،سماج کے کمزور طبقات پر بالخصوص اقلیتوں پر ہونے والے مظالم حقوقِ انسانی کی تنظیموں پر شکنجہ حتیٰ کہ میڈیا جو ملک کی جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اس پر بھی شکنجہ کستے ہوئے حقائق کو اجاگر کرنے میں روڑے اٹکانہ ملک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کےمستقبل سے لاپرواہی برتنا حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے تمام شعبوں و محکموں کو نجی ہاتھوں میں سونپنا، ملک کی گرتی معیشت سے لاتعلقی آزادی کے بعد کانگریس پارٹی کے ہاتھوں آئی ملک کی باگ ڈور سے ملک جس رفتار سے ترقی کرتا گیا وہ سارا کا سارا اِن نوسالوں میں پچہتر سال پیچھے پہنچنے کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا ہے ،ملک کی اس زوال پذیر صورت حال سے ملک کا ہر شہر اس وقت ملک کے روشن مستقبل کے لئے کانگریس کی ضرورت محسوس کررہا ہے ا،ن خیالات کا اظہار رکن قانون ساز کونسل ‘کے عبدالجبار ‘ نے اردو اخباری نمائندے سے بذریعہ فون ملک کے حالات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بتایا ،مزید اُنہون نے کہا کہ اِن حالات میں بالخصوص ملک کے مسلمانوں کو چاہیئے کہ جو قوم ہمیشہ ملک کی خاطر اپنے وجود کو خطرے میں ڈال کر ملک کو پروان چڑھاتے آئی آج اُس کے امتحان کا وقت ہے،ملک کی تعمیر میں مسلم قوم نے ہمیشہ ناقابل فراموش کردار کے ساتھ ملک کو ترقی کی راہوں پر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس وقت ملک کی اکثریت اِن نوسالوں میں نفرت اور سماجی دوریوں کے دور سے گذر رہی ہے ،مسلمان اپنے ایمان توکُل و اتحاد کے ذریعہ صبر و حکمت کا راستہ اپنا کرملک و ملت کی تعمیر کی خاطربرادرانِ وطن کے ساتھ اشتراک کے ذریعہ اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کربنام سکیولر چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے چنگل سے نکل کر اتحاد کا ثبوت پیش کرتے ہوئے مکمل طور پر ایک پلاٹ فارم پر کام کرتے ہوئے پھر سے ملک پر کانگریس کے اقتدار کی واپسی کی راہ ہموار کرنا اپنا فریضہ جانین کہ بردران وطن بھی اِن نوسالوں میں ملک کو زوال کی راہ پر جاتا دیکھ کر تشوئش میں مبتلاء ہیں ایسے میں مسلم قوم جو ہمیشہ ملک کی محبت میں سرشار رہنے والی قوم ہے ،عبدالجبار نے مزید اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ملک کو زوال سے عروج کی سمت لےجانے کے لئے اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے موجودہ دور کی آزمائشوں میں پورے اُترتے ہوئے پُرعزم طریقے سے ایک نئی صبر آزما کوشش کے ساتھ کانگریس پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کے لئے برادرانِ وطن کو بھی ساتھ لے کر ملک میں امن انصاف اور بھائی چارے کی راہ میں حائل رُکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے ملک کے بہتر مستقبل کی خاطر ایک جٹ ہوجانا وقت کی ضرورت ہے،ورنہ وہ دن دور نہیں کہ جب ملک کے حالات سے ملک کی سالمیت کو جو خطرہ لاحق ہوگا۔ملک کی سالمیت ،ملک میں امن ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،آپسی اتحاد ،عدل وانصاف ،معاشی بدحالی سے آزاد ،روزگار کے تیقین ،بدعنوانی سے پاک انتظامیہ ،سماجی برابری،اور ملک کی ترقی و روشن مستقبل کیلئے ملک کو کانگریس پارٹی کی بے حد ضرورت ہے۔