بنگلورو:۔اسی سال سے پانچویں اور آٹھویں جماعت کو پبلک امتحان منعقدکرنے کیلئے ریاستی حکومت کے فیصلے کولیکر جہاں بچے پریشان ہیں وہیں مختلف تنظیموں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔تعلیمی سال کے آخر میں وزیر تعلیم کے اس فیصلے پر برہمی کااظہارکیاجارہا ہے ۔ تنظیموں کا کہناہے کہ وزیر تعلیم کا یہ فیصلہ احمقانہ ہے،اچانک سے لاکھوں طلباء کو پبلک امتحان کروانے کے فیصلے سے والدین میں ایک طرح کاخوف پیداہواہے اس کے علاوہ پانچویں جماعت کے بچے پبلک امتحان دینے کیلئے ذہنی طورپر تیارنہیں ہوتے،اس وجہ سے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے پبلک امتحان کو منسوخ کیاجائے۔سیول وائس نامی تنظیم کے ریاستی صدر لکشمی نارائن نے اس سلسلے میں ایک اخباری بیان جاری کیاہے جس میں کہاگیاہے کہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے پبلک امتحان کو منعقدکرنے کیلئے12 دسمبر کو نوٹیفکیشن جاری کیاگیاہے،اسٹیٹ بورڈ سلیبس کو ہی یہ امتحان کروایاجارہاہے جبکہ کسی بھی سی بی ایس ای اور سینٹرل بورڈ کے طلباء کو یہ حکمنامہ نافذ نہیں ہوگا۔حکومت کے اس فیصلے سے بچوں،والدین اور اساتذہ کو پریشانیوں کا سامناکرناپڑرہاہے۔تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ریاستی حکومت اس فیصلے کومسترد کرے۔
