صابرہ گروپ آف انسٹیوشن کا سالانہ اجلاس طلباء و طالبات کے ذریعہ علم کی گونج

اسٹیٹ نیوز
طلباء کے ذریعہ اس طرح کی تعلیمی بیداری یقیناًملک کے بہترین شہری ہونے ثبوت ہے: ایجوکیشن افسر کے منجوناتھ
کیرےبلچی:۔داونگیرے ضلع کا معروف قصبہ کیرے بلچی جس کو ریاست کا پہلا تعلیمی اعتبار سے بیدار قصبہ کہنا غلط نا ہوگا ،1960ء عیسوی میں ہی اس قصبہ میں ایک نجی تعلیمی ادارہ قائم کرتے ہوئے اُس وقت کے اہل فہم افراد نے اس قصبہ اور اطراف و اکناف کے قصبہ جات و پڑوس کے اضلاع تک کو علم کی شمع سے روشن کیا ،اور آج  کیرےبلچی کے افراد ریاست کے کونے کونے میں بالخصوص شعبہ تعلیم میں نمایاں خدمات  انجام دیتے ہوئے اس قصبہ کا نام روشن کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ آج معاشی طور پر بھی یہ قصبہ ایک مضبوط قصبہ ماناتا ہے ،اس قصبہ میں تعلیم یافتہ افراد کی بہتات پائی جاتی ہےیہ اُنہی افراد کی مرہون منت مانی جاتی ہے جن افراد نے 1960 ء میں اس چھوٹے سے قصبہ میں وسائل کے تعلق سے اُس وقت بہت سارے مسائل کے ہوتے ہوئے ہمتِ مردان مددِ خدا کے مصداق ذات باری تعالی ٰپر کامل اعتماد رکھتے ہوئے جو جدو جہد کی یہ اُسی کا نتیجہ ہے،اُس کے بعد صابرہ تعلیمی ادارہ 1992ء میں قائم دوسرا نجی تعلیمی ادار ہ ہے،جو قیام کے بعدبہت سارے مسائل سےدوچاررہا مگر ادارے کے منتظمین نے ہمیشہ ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکے مستقبل کو مد نظر رکھا ۔ اِس ادارے میں وظیفہ پرنسپل ادارے کے منتظم افروز علی خان کی صدارت میں ایک سالانہ اجلاس بنام تعلیمی گونج منعقد کیا گیا ،اجلاس میں چنگری بلاک ایجوکشن افسر کے منجوناتھ ،ادارے کے صدر یحیٰ خان ،سکریٹری سعود محسن خان،مذمل بیگ ، وظیفہ یاب پروفیسر ڈاکٹر مذمل احمد ،وظیفہ لکچرار عبیدا لرحمان ،ماہر تعلیم و رحمان فاونڈیشن کے سلیم الرحمان اور اُن کی اہلیہ رومانہ بانو ،انجینئر سُہیل احمد خان،کیرے بلچی جامع مسجڈ کمیٹی صدر ووظیفہ یاب تحصیلدار اعجاز بیگ ،اردو ای سی وہ شمشاد بیگم ، اُردو سی آر پی ٖفاضل احمد خان وغیرہ شریک ر ہے ۔اس موقع پر ادارے میں تعلیم حاصل کرر ہے طلباء سیف اُللہ خالد اور گروپ کے ذریعہ تلاوتِ کلام اوردسویں جماعت کی طالب علم تمکین بانو نے حمد پیش کیا، بی بی حاجرہ کے ذریعہ نعت پیش کئے جانے کے ساتھ اور مہمانانِ خصوصی و معززین کے ہاتھوں پودے کو پانی ڈال کر اجلاس کا افتتاح کیا گیا ،اجلاس کےافتتاح کے بعد بلاک ایجوکیشن افسر کے منجوناتھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے اس ادارے میںاس طریقہ سے شائد یہ پہلا اجلاس ہے ، ادارے میں طلباء و طالبات کے ذریعہ پیش ہونے والے ثقافتی و تعلیمی کارگرگیوں پر نظر ڈالتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ طلباءمیں  جس طرح تعلیمی شعور  اور ثقافتی  سرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس ادارے میں اساتذہ طلباء کے مستقبل سے متعلق کس قدر سنجیدہ ہیں یہان پر جو عملہ ہے وہ کافی ہونہار ہے یقیناًاس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں والدین  اساتذہ گاؤن اور ملک کا نام روشن کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے،یہا ن تعلیم حاصل کرنے والے طلباء انگلی ملنے پر ہاتھ تھام لینے والے مقولہ کے مصداق ہیں ،یہ والدین اور اساتذہ کی محنتوں کا نتیجہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ،اجلاس میں اسی ادارے میں خدمت انجام دے رہے لکچرار سریش کو اُن کی پی ہیچ ڈی کی تکمیل پر  ادارے کے قیام سے اب تک مسلسل ادارے میں بطورِ منتظم خدمت انجام دیتے وظیفہ یاب احمد پیران کے علاوہ گاؤن کے مختلف شعبہ جات میں نمایان خدمت انجام دینے والے اور محکمہ تعلیم کی جانب سے بہترین استاد کے اعزاز ( بیسٹ ٹیچر ایوارڈ )یافتہ اساتذہ کو بھی تہنیت سے نوازا گیا ، اس کے بعد اجلاس میں طلباء نے اپنی صلاحیت کو یون اُجا گر کیا کہ مختلف گروپوں کے ذریعہ اپنے ثقافتی کارگردیوں کو ظاہر کیا اور کچھ طلباء انفرادی طور پر اپنے کارگردیوں کے ذریعہ اجلاس میں موجود شرکاء کا دل موہ لیااور ایک سے بڑھ کر ایک  بہتر کارگردگی کا مظاہرہ کیا  ،بالخصوص  کیرےبلچی کی مسجدِبلال میں بطورِ موذن خدمت انجام دے رہے محمد توفیق کی بیٹی پی یو سی سال دوم کی طالبہ سعدیہ کوثر نے جہیز کی لعنت سے متعلق اپنی تقریر میں کہا موجودہ دور میں جہیز کو معاشرے میں ایساء بنایا گیا ہے کہ جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو پورا خاندان خصوصیت کے ساتھ لڑکی کا باپ رحمت ہی تصور کرتاہے ،اور جب بیٹی شادی کی عمر کو پہنچ جاتی ہےتو ایک غریب باپ اس بیٹی کو زحمت تصور کرنے پر مجبور ہوجا تا ہے، یہی وجہ ہے کہ معاشرے سے اس لعنت کا مکمل خاتمہ ہونا ضروری ہے،سعدیہ کوثر کی تقریر کو پورے مجمع نے توجہ سے سنااورمجمع پر ایک سناٹہ چھایا ہوا دیکھا گیا اور مجمع میں موجود ہر فرد کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے ،ڈی یل ایڈ کی طالبہ حفصہ ناز نے اپنی خود کی لکھی نظم” فریادِ دختر”  پیش کیا ، ادارے کے صدر یحیٰ خان  نے اجلاس سے متعلق اپنے تاثرات پیش کئے ،صدراجلاس وظیفہ یاب پرنسپل و ناظم ِ ادارہ افروز علی خان نے  والدیں کے تعاؤن اساتذہ کے جذبہ اور طلباء کی تعلیم میں لگن ودلچسپی کی سراہانہ کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ اپنے قیام کے بعد سے بہت سارے مسائل جھیل رہا تھا ، مگر حالات اب کچھ ساز گار ہوتے جارہے ہیں  مزید بہتری کے ساتھ طلباء کو وسائل فراہم کرتے ہوئےوالدین اور اساتذہ کواپنا نام روشن کرنے والے بہترین طلباء ملک و قوم کو بہترین شہری فراہم کرنے کی سمت میں ادارہ کام کرے گا،اجلاس میں ہائی اسکول میر معلمہ رضیہ بیگم ،پی یو سی پرنسپل عبدالصمد قاضی ،اور ڈی یل ایڈ پرنسپل محمد سعید ،لکچرار سلمان خان،لکچرار طہورہ انجم،لکچراروصیہ بانو،کے علاوہ عملہ شریک رہا، صابرہ ہائی اسکول میر معلمہ رضیہ بیگم نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ڈی یل ایڈ لکچرار افیفا خانم نے پورے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے اختتام پر مہمانو ں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی اجلاس اختتام پذیرہوا،اختتام پر طلباء کے حوصلوں کو دیکھتے ہوئے مہمانِ خصوصی و ماہر تعلیم سلیم الرحمنٰ نے میک اپنے ہاتھ لے مجمع سے مخاطب ہوکر کہا کہ تعلیمی اعتبار سے آج یہان جو کچھ ہم سب نے ملاحضہ کیا وہ بہت خوب رہا مگر میں آج آپ کے سامنے ایک بات کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کیرےبلچی ایک خالص مسلم آبادی والا قصبہ ہے اور یہان پندرہ مساجد ہیں ،والدین کو چاہیے کہ عصری تعلیم تو ماشاء اللہ آپ اپنے بچوں کو دلوارہے ہو یہ بہت اچھی بات ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو نماز کی ترغیب بھی دیں ورنہ اصل کامیابی سے ہم سب محروم رہ جائینگے۔