کانگریس نے کیا کیا؟ اور مودی نے ہمیں مقروض کیسے کیا!

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ہندوستان پر دن بہ دن قرض کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے جس سے چند سکنڈس پہلے جنم لینے والے بچہ سے عمر رسیدہ افراد تک ہر شہری پر ایک لاکھ روپے کا قرض عائد ہوگیا ہے۔ قارئین کو یہ سن کر اور پڑھ کر تعجب ہوگا کہ انہوں نے کبھی قرض حاصل نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو کچھ باقی ہے تو پھر ان پر قرض کا بوجھ کیسے عائد ہوگیا؟ مرکزی حکومت نے تاحال 147.19 لاکھ کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے جبکہ ملک کی آبادی تقریباً 140 کروڑ ہے۔ اس حساب سے ہر شہری ایک لاکھ روپے کا مقروض ہوگیا ہے۔ مرکزی محکمہ فینانس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہو نے کے بعد ملک قرضوں کے دلدل میں پھنستا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت فینانس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے الزامات صحیح ثابت ہو رہے ہیں۔ آزادی کے بعد سے 2014 تک 67 سال کے دوران ملک پر 5587147 کروڑ روپے کا قرض تھا۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد صرف 8 سال کے دوران انہوں نے 91 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض حاصل کیا۔ سابق وزرائے اعظم نے سالانہ اوسطاً 83 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا تھا تاہم موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ماہانہ تقریباً 90 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔ مجموعی طور پر مرکزی حکومت ہر گھنٹہ 126 کروڑ روپے کا قرض حاصل کررہی ہے۔ ساتھ ہی چور دروازے سے بڑے پیمانے پر ٹیکس وصول کرتے ہوئے ملک کے عوام پر اضافی مالی بوجھ عائد کیا جارہا ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ کو دی جانے والی سبسیڈیز کو گھٹا دینے کے بعد پکوان گیس، پٹرول، ڈیزل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بے تحاشہ حد تک بڑھا دیا گیا ہے۔ گزشتہ 67 سال کے دوران ملک بھر میں بڑے بڑے آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے گئے۔ بی ایچ ای ایل، بی ڈی ایل کے بشمول کئی بڑی و متوسط اور چھوٹی فیکٹریاں، کمپنیاں قائم کئے گئے۔ برقی کا گاؤں گاؤں تک جال بچھایا گیا۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے قام کئے گئے۔ لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کیا گیا۔ جوہری اور ایٹمی تجربے کئے گئے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کو ہر شعبہ میں متعارف کراتے ہوئے انقلابی ترقی کی راہ ہموار کی گئی۔ فوجی دستوں کو مستحکم کیا گیا۔ پڑوسی ممالک سے جنگیں لڑی گئیں۔ ٹیلی کام نظام کو تیزی سے پھیلایا گیا۔ بیرونی ممالک سے خوشگوار تعلقات بڑھائے بالخصوص خلیجی ممالک سے خاص رشتہ رکھا گیا۔ سماجی ترقی، خواتین کی حفاظت پر توجہ دی گئی، لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا گیا۔ 2014 کے بعد ملک کے حالات پوری طرح تبدیل ہوگئے جہاں عوام پر قرض کا بوجھ عائد ہوگیا۔ وہیں سبسیڈیز تقریباً برخواست ہوگئیں۔ تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ روپیہ کی قدر گھٹ گئی، پبلک سیکٹرس کو خانگی شعبہ کے حوالے کیا گیا، شرح بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا، بی ایچ ای ایل جیسی کوئی بھی بڑی کمپنیاں قائم نہیں کی گئیں، ریلوے، فضائی شعبوں کو خانگی شعبہ کے حوالے کیا گیا، یہاں تک سڑکوں کو بھی خانگی شعبہ کے حوالے کیا جارہا ہے۔ پڑوسی ممالک سے تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال ابتر ہوگئی، اقلیتوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، خواتین محفوظ نہیں ہیں، ہر لحاظ سے ملک ترقی کے بجائے پسماندگی کی طرف گامزن ہے۔ سال 2014-15 میں ملک پر 6278553 کروڑ روپے کا قرض تھا جو سال 2015-16 میں 6891913 کروڑ ہوگیا۔ سال 2016-17 میں 7215439کروڑ روپے، سال 2017-18 میں 8232653 کروڑ روپے، 2018-19 میں 9056725 کروڑ روپے، سال 2019-20 میں 10018120 کروڑ روپے، سال 2020-21 میں 12121959 کروڑ روپے، سال 2021-22 میں 13587893 کروڑ روپے، سال 2022-23 میں 14719000 لاکھ کروڑ روپے ہوگیا ۔