دہلی:۔دنیا بھر میں اس وقت نت نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیںا ور لوگ اس کشمکش کا شکارہورہے ہیںکہ کیایہ تمام بیماریاں کسی سازش کا حصہ تو نہیں۔ابھی کوویڈ19 وباء کی لہر پہلی دوسری اور اب تیسری شکل میں گھوم رہی ہے،ایسے میں چین سے ہی ایک نئی بیماری جنم لے چکی ہے اور دنیا میں پہلی دفعہ کسی انسان میں برڈ فلو کے وائرس پائے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق دنیا میں پہلی مرتبہ پرندوں میں پائے جانے والے برڈ فلو وائرس کی ایک خاص قسم کی انسانوں میں تشخیص ہوئی ہے۔چین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کی قسم ایچ 10 این 3 کا انسانوں میں پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے، چند دن قبل ایک شخص کو اسپتال میں داخل کیاگیاتھا جس میںایچ10این3کے جراثیم دیکھے گئے ہیں۔جنزیاک نامی شہرکے ساکن کویہ بخارہوئی ہے۔فی الوقت اس مریض کی حالت بہترہے،لیکن سائنسدان اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ اس میں یہ مرض کیسے داخل ہوا۔یہ مرض عام طور پر مرغیوں کے فارم سے پھیلتاہےاوریہ دوسرے وبائی امراض کی طرح بہت جلدلوگوں پر اثراندازہوتاہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں شاذ و نادر ہی پایا جاتا ہے تاہم ان افراد میں اس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جو مردہ متاثرہ پرندوں اور ان کے ارد گرد کے ماحول میں رہ رہے ہوں۔ ماہرین کے مطابق برڈ فلو کا یہ وائرس انسانوں میں شدید بیماری اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
