بنگلورو:۔لاک ڈائون کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن کے وسائل نہ ہونےکی وجہ سے ایک باپ نے اپنے بیٹے کی دوائی کی خاطر300 کلو میٹر سائیکل پرسوار ہوکر دوائی خانے پہنچااور اپنے بیٹے کیلئے دوائی لیکر آیا۔یہ واقعہ میسورضلع کےٹی نرسی پورتعلقہ کےبنوروگرام پنچایت کےگانی گناکوپلوکے ساکن آنند جو مزدور ہیں ،وہ اپنے گائوں سے بنگلوروکے نمہانس اسپتال پہنچےاور اپنے بیٹے کیلئے دوائی لے آئے۔آنندکا دس سالہ بیٹاجو دماغی امراض کا شکارہےاور اُسے ڈاکٹروں نے تجویزدی ہے کہ 18 سال تک بلاناغا دوائی دی جائے ۔ آننداپنے بیٹے کیلئے ہر دو ماہ کی دوائی ذخیرہ کرتاتھا،لیکن اس دفعہ لاک ڈائون کی وجہ سےوہ دوائی ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے گائوں سے دوائی لینے کیلئے گھر سے روانہ ہواچ ۔23 مئی کو وہ اس سفرکیلئے روانہ ہوا تھااور پورے 24 گھنٹے کا سفر طئے کرتے ہوئے کنکاپور پہنچاتو اُس نے رات مندرمیں گذاری،خالی پیٹ ہی وہ اس سفر کو انجام دیتا رہا۔صبح وہ جب بنگلوروپہنچا تو بنگلورومیں اس نے اپنی داستان سنائی ،جسے سننے کے بعد ایک شخص نے اُسے کھانا دیکر کچھ وقت آرام کرنے کیلئے جگہ دی۔بلآخر وہ تیسرے دن ڈاکٹر کے پاس پہنچا اور اپنے سفرکی بات بتائی ۔ ڈاکٹربھی اس کی محبت سے پسیج گئے اور اسے مفت دوائی دیکر 1000 روپئے نقدزادِ راہ دیکر روانہ کیا۔آنند اُسی دن صبح10 بجے بنگلورو سے روانہ ہوااور شام4 بجے اپنے گھر پہنچا۔اس باپ کی محبت کے چرچے اب ریاست بھر میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
