آریس یس لیڈروں کے ساتھ مسلم دانشوران کی بیٹھک ؛ کہا امن کیلئے ہے یہ بات چیت

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔بھارت میں مسلمانوں کی سب سے حریف جماعت مانے جانے والی آ ر یس یس کے ساتھ ہاتھ بڑھانے کے لئے کچھ مسلم دانشوروں نے آریس یس لیڈران کے ساتھ بیٹھک کی ہے ۔ اس موقع پر دانشوروں نےکہا کہ ملک میں ہندو اور مسلمانوں میں زبردست غلط فہمیاں ہیں ،ایک دوسرے کے بارے میں اچھے خیالات کا فقدان ہے ،اس کو دور کرنے کے لیے دونوں طبقوں کے لوگوں کو آگے آنا ہوگا لیکن یہ راتوں رات نہیں ہوسکے گا اس میں وقت درکار ہوگا ۔ اس کے لیے ہمیں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا،دل کھول کر ایک دوسرے کی شکایتوں کو سننا ہوگا اور اس کو دور کرنا ہوگا کیونکہ یہی ملک کے لیے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس سے قبل پانچ مسلم دانشوروں نے راجدھانی میں ہی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ بات کی تھی اور ملک کے موجودہ ماحول کو بدلنے کے لیے مذاکرات کی پہل کی پیشکش کی تھی ۔ جس کو موہن بھاگوت نے خوش دلی کے ساتھ قبول کیا تھا ۔انہوں نے اس سلسلے میں مزید بات چیت کے لیے راشٹریہ مسلم منچ کے سرپرست اندریش کمار، آر ایس ایس کے سینئر پرچارک رام لال اور کرشنا گوپال کو آر ایس ایس کی جانب سے مقرر کیا تھا ۔اب انہی تینوں لیڈران نے 14 جنوری کو دہلی کے سابق ایل جی نجیب جنگ، سابق الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوب قریشی، صحافی اور سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی، ہوٹل مالک سعید شیروانی سے ملاقات کی تھی جبکہ اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ۔ ضمیر الدین شاہ اجلاس میں نہ پہنچ سکے تھے۔اہم بات یہ ہے کہ اس  میٹنگ میں جماعت اسلامی ہند، جمعیۃ علماء ہند اور دارالعلوم دیوبند کے مذہبی رہنما بھی موجود تھے۔ جبکہ 13 جنوری کو مسلم مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں اور دانشوروں نے نجیب جنگ سے صحافی شہید صدیقی کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی تاکہ آر ایس ایس کے وفد سے ملاقات سے قبل نکات تیار کیے جا سکیں۔میٹنگ میں نفرت انگیز تقریر، فسادات، موب لنچنگ، آبادی پر حکومت کی طرف سے بلڈوزنگ اور کاشی متھرا مندر جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں پر آر ایس ایس کے وفد کا کہنا تھا کہ ہمارا ہر کسی پر کنٹرول نہیں ہے ۔ آر ایس ایس ملک کے تمام ہندووں کی نمائندہ نہیں ،اس لیے پورا معاشرہ تنظیم کی بات نہ تو سنے گا اور نہ مانے گا۔ یہ الگ الگ تنظیمیں ہیں اور الگ الگ لیڈر ہیں ۔ یہ جو کہہ رہے ہیں اس پر ار ایس ایس کو یقین نہیں ہے۔اجمیر کے سجادہ نشین سید سلمان چشتی  نے کہا کہ میں نے آر ایس ایس کے وفد کو درگاہ اجمیر شریف کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے ۔ آر ایس ایس کے لیڈران نے بھی ہمیں ناگپور آنے کی دعوت دی ہے ۔آر ایس ایس کے وفد نے کہا کہ ہم صوفی نظریات اور طریقہ کار کو پسند کرتے ہیں جبکہ انسانی خدمت کے جذبے کا سلام کرتے ہیں ۔ لیڈران نے مسلم نمائندوں سے کہا کہ وہ ناگپور آئیں اور تنظیم کی خدمات کا جائزہ لیں ۔آر ایس ایس کے وفد سے بات چیت کے بعد صحافی شاہد صدیقی نے کہا کہ ہماری ایک اور خوشگوار ملاقات ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو ایک طرف رکھ کر سماج کے خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوسرے شہروں میں دوبارہ ملاقات کے منتظر ہیں۔جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری ملک معتصم خان نے بتایا کہ نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ آر ایس ایس لیڈروں کے سامنے اٹھایا گیا جس پر آر ایس ایس لیڈروں نے اتفاق کیا کہ اس سے بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی میراتھن میٹنگ میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ اس طرح کی میٹنگز دیگر شہروں میں بھی منعقد کی جائیں گی۔بتا دیں کہ اس سے پہلے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ سال 22 اگست کو پہلی بار پانچ بڑے مسلم دانشوروں سے ملاقات کی تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ آر یس یس کی جانب سے تسلیم شدہ مسلم نمائندوں کی یہ کوششیں کہاں تک کامیاب ہونگی اورآر یس یس اپنے ایجنڈے میں کس حد تک تبدیلی لائیگی ۔