کرناٹکا اردو چلڈرنس اکادمی کے قومی سمینار’’حافظؔ کرناٹکی ہمہ جہت ادیب و شاعر‘‘ کا آخری سیشن

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شکاری پور:۔گلشنِ زبیدہ میں جشن ادب اطفال، قومی مشاعرہ، اور قومی سیمینار کا آخری سیشن اختتام پذیر ہوا، پہلے دوسیشن میں ادب کے ثقہ لوگوں نے اور بڑے بڑے اسکالروں نے اپنے پرمغز مقالے پڑھے اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی ادبی، تخلیقی، تعلیمی اور عملی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی۔ جس طرح حافظؔ کرناٹکی کی خدمات کو سمیٹنا آسان کام نہیں ہے اسی طرح حافظؔ کرناٹکی کے ادبی کاموں اور کارناموں کو ایک دو نشستوں میں سمیٹنا آسان کام نہیں ہے۔ چنانچہ تیسری نشست میں ان طلبا ء کو مقالے پڑھنے کے مواقع فراہم کیے گئے جن میں سے بیشتر گلشن زبیدہ کے تربیت یافتہ تھے۔ بعض ایسے طلبا بھی تھے جنہوں نے حافظؔ کرناٹکی کی مختلف کتابوں کا جائزہ لیا۔ ان کتابوں کے موضوعات و مواد کی وضاحت کی۔ اور اپنے قلبی تأثرات کا اظہار کیا۔ اس سیشن کی مشترکہ صدارت ڈاکٹر امیر حمزہ اور ڈاکٹر عبدالباری نے کی خاص بات یہ ہوئی کہ اس سیشن میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی بہ نفس نفیس شروع سے آخرتک شریک رہے۔جامعہ طیبات کی منتظمہ افروز نے کہا کہ آج میں زندگی میں جو کچھ ہوں وہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی تربیت اور ان کی کتابوں کے مطالعے کا صدقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک مدرسہ چلاتی ہوں، عوام میں مدرسہ کے لیے چندے کی درخواست پیش کرنی پڑتی ہے۔ میں نے چندے کی بہت کوشش کی مگر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد میں نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی نظم ’’یتیم کی عید‘‘ پڑھی، اس نظم نے ایسا سماں باندھا کہ آن کی آن میں دولاکھ چندہ جمع ہوگیا۔معلوم یہ ہوا کہ حافظؔ جی کی نظمیں لوگوں کے دلوں پر براہ راست اثر کرتی ہیں۔ان نظموں سے نہ صرف یہ کہ پڑھنے والا متأثر ہوتا ہے بلکہ اسے سننے والابھی قلب ماہیت کی کیفیت سے گذرتا ہے۔ زبیدہ ہائر پرائمری اسکول کے میر معلم عبدالعزیز نے اپنے مقالے میں بہت ساری باتیں بتائیں اور کہا کہ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ آج میں یہاں مقالہ پڑھ رہا ہوں مگر جب میں یہاں آیا تو اردو لکھنے پڑھنے سے قاصر تھا جبکہ میں اردو میں ایم اے کر چکا تھا۔ میں نے اپنی اردو حافظؔ کرناٹکی صاحب کی کتابیں پڑھ پڑھ کر درست کی۔ یہ انہیں کی کتابوں کے مطالعے کا فیض ہے کہ آج میں مقالے بھی لکھ لیتا ہوں۔ سیما لکچرر زبیدہ ڈی ایڈ کالج نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی میرے بچپن سے لیکر آج تک آئیڈیل استاد رہے ہیں۔ میں نے ان کی ہر کتاب کو توجہ، محبت اور شوق سے پڑھا ہے۔ خاص طور سے ان کی رباعیوں نے مجھے بے تحاشہ متأثر کیا۔ ان رباعیوں میں ماں، ممتا، خدا، وحدانیت، رسول، رسالت، اخلاق، اخلاقی اقدار، کردار، کردار کی نفاست، برتاؤ، سلوک، حسن سلوک، وطن اور وطن سے محبت وغیرہ سبھی موضوعات اس طرح سمو دیے گئے ہیں کہ ہر رباعی دل کی گرہیں کھولتی چلی جاتی ہیں اور انسان کے قلب و نظر میں روشنی کا احساس بڑھتا چلاجاتا ہے۔مبین پروین لکچرر زبیدہ ڈی ایڈ کالج نے کہا کہ یوں تومجھے حافظؔ کرناٹکی کی ساری کتابیں پسند ہیں۔ مگر ان کی غزلوں کی میں شیدائی ہوں۔ انہوں نے بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں خلوص سے غزلیں لکھی ہیں۔ بچوں کے لیے لکھی ان کی غزلوں میں ایک خاص طرح کی نصیحت اور عملی تربیت کا احساس پایا جاتا ہے تو بڑوں کے لیے لکھی گئی ان کی غزلیں غزل کے سارے موضوعات اپنے حسن کا احساس دلاتے ہیں۔ ریسرچ اسکالر عرشیہ نے کہا کہ میرے ریسرچ کا موضوع کرناٹک میں اردو رباعی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں کرناٹک کے بہت سارے رباعی گوشعرا کا مطالعہ کیا۔ مگر جب’’ کلیات رباعیات حافظ‘‘کو دیکھا تو میں رباعی کے اس سمندر میں ڈوبتی چلی گئی۔وسیم اکرم نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی کی ہر کتاب اس قابل ہے کہ اس پرالگ سے ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان کی نظمیں، غزلیں اور بہت ساری نثری کتابیں اردو ادب کا سرمایہ ہیں۔گلشن زبیدہ کی طالبہ شہیرہ خانم نے حافظؔ کرناٹکی کی لوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی کی لوریاں لوریوں کے اوصاف کے ساتھ اسلامی پاکیزگی اور حسن کا ایسا امتزاج ہیں جس کی کوئی مثال نہیں دیکھی گئی ہے۔ گلشن زبیدہ کی طالبہ نسیم نکہت نے حافظؔ کرناٹکی کی مختصر نظموں کی کتابیں گلپوش جھروکے اور شاخ نہال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں میں اتنی پیاری پیاری مختصر نظمیں ہیں کہ پڑھتے پڑھتے ہی دلوں پر نقش ہوجاتی ہیں۔گلشن زبیدہ کی طالبہ عرشیہ ناز نے حافظؔ کرناٹکی کی کتاب ’’دخترنامہ‘‘ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو رشتوں کی نزاکتوں اور ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے۔ بیٹی کی رخصتی، بیٹی کو نصیحت، ساس کو نصیحت، داماد کو نصیحت، ساس کی خدمت وغیرہ عنوانات کے تحت جو منظوم نصیحتیں پیش کی گئی ہیں وہ لڑکیوں کی زندگی بدل دیتی ہے۔ اسی لیے بعض لوگ یہ کتاب اپنی بیٹی کو شادی میں بطور تحٖفہ پیش کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ بہت ساری بچیوں نے حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں پر روشنی ڈالی۔ ایک بچی نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی کی کتاب ’’علامہ اقبال‘‘ پڑھنے کے بعد ہی میں علامہ اقبال کو جان سکی۔ایک بچی نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی کی کتاب ’’جدوجہد آزادی کی نامور خواتین‘‘ پڑھا تو اپنے اندر ایک طاقت محسوس کی کہ خواتین کیا کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ میں نے جب حافظؔ جی کی کتاب ’’ملکہ نور جہاں‘‘ پڑھا تو اپنے اندر بڑی خود اعتمادی محسوس کی کہ ایک عورت نے کتنی کامیابی سے پردہ کے پیچھے رہ کر ملک کو چلایا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ جب میں نے حافظؔ جی کی کتاب ’’اے پی جے عبدالکلام‘‘ پڑھی تو حیران رہ گئی کہ اتنا عظیم سائنس داں اور ملک کا صدر کس قدر سادہ تھا۔ وہ سچ مچ ولی صفت انسان تھے۔ غرض اسی طرح بہت ساری بچیوں نے حافظؔ کرناٹکی کی الگ الگ کتابوں پر روشنی ڈالی اور اس کی خوبیوں کو بیان کیا جس سے اندازہ ہوا کہ طلبا ان کی کتابیں کتنے ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں۔ابوللیث نے کہا کہ حافظؔ کرناٹکی صاحب نے ادب اطفال کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیاہے کہ اس کی کوئی مثال ہی نہیں۔ ڈاکٹر امیر حمزہ ’’این سی ای آر ٹی سی ،دہلی نے کہا کہ ان بچیوں نے چند جملوں میں جس طرح حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں کی خوبیوں کو پیش کیا ہے اس طرح آج کا کوئی پروفیسر بھی اتنی آسانی سے پیش نہیں کرسکتا ہے۔ یقینا یہ حافظؔ کرناٹکی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹر عبدالباری ، دہلی یونیورسیٹی ،دہلی نے کہا کہ سیمینار کے سبھی سیشنوں میں یہ سیشن سب سے کامیاب رہا۔ طلبا اور اساتذہ کا مطالعہ بہت ہی گہرا ہے۔ وہ کسی بھی کتاب کی روح کی خوشبو تک آسانی سے پہونچ جاتے ہیں۔ ان کی خود اعتمادی اور تحریر و تقریر کا انداز بھی حیرت انگیز ہے۔ یقینا ان بچوں کی تیاری اور تربیت میں حافظؔ کرناٹکی نے اپنے جگر کو خون کیا ہے۔ جو لائق ستائش ہے۔یہ سیمینار مولانا محمد اظہر الدّین ازہر ندوی کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔