از:۔ عبدالجلیل القاسمی چنئی. 9042957806

سورہ احزاب کی یہ جس میں آپﷺ پر صلاۃ وسلام کا حکم نازل ہوا ::حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ ایت مبارکہ نازل ہوئی تو آپﷺ کے چہرہ انور کا رنگ انار کے دانوں کی طرح انتہائی خوشی ومسرت سے کھل گیا..اور ارشاد فرمایا. مجھے مبارک باد پیش کرو.آج مجھ پر وہ ایت کریمہ.نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا ومافیہا میں سے ہر چیز سے بہتر ہے. اس کے بعد نبیﷺ نے مذکورہ ایت تلاوت فرمائی :میں نے آپﷺ سے یہ خوشخبری سنتے ہی عرض کیا.یا رسولﷺ، آپﷺ کو یہ نعمت مبارک ہو۔پھر حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین مبارکباد پیش کرتے ہے۔اس آیت کا پہلا لفظ (ان اللہ ) سے ہوکر ہے۔خود پروردگار اپنی مخصوص ترین رحمتیں آپﷺ پر نازل فرمارہا ہے اور اسکے ملائکہ مقربین حاملین عرش ساتوں آسمان میں بسنے والے کراما کاتبین سب آپﷺ پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ بتلارہے ہیں عالم علوی کا ماحول میرے حبیب ﷺ پر درودوسلام سے گونج رہا ہے تو اے عالم اسفل آپ لوگ بھی درودوسلام بھیجتے رہیے تاکہ بیک وقت میرے حبیب ﷺ پر عرش بریں سے فرش زمیں تک غلغہ برپا رہے یہ سلسلہ جاری رہے صلی اللہ علی محمــــــــد صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
پھر اور مزید خبر یہ دیدیا ایسا نہیں کبھی کبھار اللہ تعالی اور اس کے فرشتے درودوسلام بھیجتے ہیں ۔ایسا ہرگز ہرگز نہیں۔عربی دان جانتے ہیں ایت میں یصلون مضارع کا صیغہ ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کام مسلسل ہورہا ہے یعنی درودوسلام کا سلسلہ جاری ہے اور ابدل الآباد جاری رہیگا (کائنات کا ذرہ ذرہ ریزہ ریزہ ہوجائیگا،مگر پروردگار کی جانب سے اس وقت پر بھی درود وسلام کا تحفہ آپﷺ پر جاری رہیگا۔)۔علامہ محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں لکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کسی امت کو یہ حکم نہیں دیا کہ وہ آپنے پیغمبر پر درودو سلام بھیجے یہ خصوصیت صرف آقاﷺ کیلے کہ آپﷺ پر درودوسلام بھیجاجاہے ہم امتیوں پر پروردگار کا بہت بڑا احسان ہوگیا یہ نعمت ہمارے حصہ میں بھی آگیا۔سنن ابو داود کی روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنائو اور تم میری قبر کو عید نہ بنائو اور مجھ پر درود پڑھو کیونکہ تمھارا درود مجھ تک پہنچتا ہے خواہ تم کہیں بھی ہو۔
دوسری بات اس آیت میں جاننے کی ضرورت ہے کہ حضرت رصاع رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس ایت میں لفظ (اللہ)آکر ہے۔جو اللہ تعالیٰ کا .ذاتی نام ہے ( یہ لفظ اللہ جامع ہےجمیع اسماء صفات کا تمام صفات اور نام مضمر ہے لفظ اللہ میں )اگر اللہ میاں یہ کہتا کہ ان الرب یصلون علی النبی یا ان الرحمان وملائكتَهُ یصلون علی النبی ۔تو یہ واہمہ ہوسکتا تھا ان پر (آپ ﷺ پر) صرف اسم رب یا اسم رحمن ہی کا فیضان ہورہا ہے ۔لیکن لفظ اللہ سے معلوم ہوا کہ آپﷺ پر اسم ذات تمام اسماء وصفات کا فیضان ہورہا ہے ۔حضرت رصاع رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بھی بتلادیا کہ آپ ﷺ کے بہت سے اسماء ہیں لیکن یہاں لفظ (نبی) کا ذکر کیا دوسرے اسماء وصفات کا ذکر نہیں کیا اسلے کہ آپ ﷺ اور دوسرے انبیاءعلیھم الصلاۃوالسلام کے مابین یہ صفت سب سے نمایاں ہے اللہ تعالی انہیں علوم لدنی عطاکرتے ہیں تو وہ معارف حقائق، کی خبر دیتے ہیں لیکن حضرت محمــــــــد رسولﷺ، کی غایت درجہ تکریم و تعظیم مقصود تھی اسلے علی النبی فرمایا علی محمــــــــد( ﷺ ) کے ساتھ ذکر نہ کیا۔اب یہاں اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں کے ساتھ ہماری درودوسلام کی کیا ضرورت رہی تو معلوم ہوا ، اللہ تعالیٰ ہم پر شفقت کی تاکہ اس بہانے سے ڈھیر سارا اجر ثواب کا بدلہ دیدیں جیسا روایت سے معلوم ہوا جو بندہ آپﷺ پر ایک دفعہ درودوسلام بھیجے ہم اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں۔ رحمت حق بہانہ می جوید اللہ کی رحمت تو بخشش کے بہانے ڈھونڈتی ہے (من صلی علی صلوۃواحدہ صلی اللہ علیہ عشرا) جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ یہاں غور کرنے کی بات ہے کہیںاس عظیم نعمت سے ہم محرومی کا شکار تو نہیں ہورہے ہیں۔مولانا محمد اسلم نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب گنجینہ درود شریف میں درود شریف پڑھنے کے باسٹھ(62) مقامات کا انتخاب فرمایا ہے جہاں درودشریف پڑھنے کی بہت فضیلت ہے ۔ایسا بابرکت وظیفہ ہے جو کسی بھی وقت پڑھاجا سکتا ہے یعنی درود شریف پڑھنے کی نہ تو کوئی تعداد متعین ہے نہ ہی وقت جب دل چاہے جس قدر چاہے دن ہو یا رات نماز سے قبل یا نماز کے بعد کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اسکے پڑھنے میں وقت تعداد کی کوئی قید نہیں۔مگر اکثر مقامات اور اوقات میں درودشریف پڑھنا بہت زیادہ فضیلت کا باعث ہے اسلے مولانا محمد اسلم صاحب نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ گن گن کر باسٹھ مقامات اور اوقات درج فرمایا۔
دوسری بات اس آیت میں جاننے کی ضروت ہیکہ حضرت رصاعؒ نے فرمایا کہ اس آیت میں لفظ (اللہ) آیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اور یہ لفظ اللہ جامع ہے تمام اسماء صفات کو اور اللہ کے تمام ننانوے صفاتی نام چُھپئے ہوئے ہیں( لفظ اللہ ) کے ذاتی نام میں ۔اگر اللہ تعالی یہ فرماتا انَّ الربّ یُصَلّونَ عَلیَ النبیِّ یا انَّ الرّحمٰن یُصَلّونَ علی النبیِّ تو یہ گمان ہوسکتا تھا کہ صرف آپ ﷺ پر اسمِ ربّ یا اسمِ رحمٰن ہی کا فیضان ہورہا ہے ۔لیکن لفظ اللہ سے یہ معلوم ہواکہ آپ ﷺ پر اسمِ ذات کے ساتھ خود بخود باقی ٩٩ صفاتی ناموں کا بھی فیضان برابر جاری ہے ۔حضرے رصاعؒ نےمزید یہ بھی فرمایا کہ آپ ﷺ کے بھی سو اسمائے گرامی ہیں مگر آیت میں لفظ( نبی) کا ذکر کیاگیا ہے دوسرے اسما کانہیں ذکر کیا ۔اسلئے کہ دوسرے انبیا ءعلیہم السلام اورآپ ﷺ کے مابین یہ صفت سب سے زیادہ نمایاں ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں علومِ لدنیّ عطا کرتےہیں ے تو وہ معارف حقائق ، کی خبر دیتے ہیں ۔لیکن حضرت محمد ﷺ کی انتہائی درجہ تکریم وتعظیم مقصود تھی اسلئےعلی النبیِّ فرمایا ۔علیٰ محمد ﷺ نہیں فرمایا گیا ۔اب یہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ ہمارے دروسلام کی کیا ضرورت تھی ؟ اس سے یہی معلوم ہوتا ہیکہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے ہم امتِ محمدیّہ ﷺ پر رحم و کرم کا معاملہ کیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے بہانے امتِ محمدیہ ﷺ کو ڈھیر سارا اجر و ثواب درودوسلام کے بدلے میں دیدیاجائے ۔ جیساکہ رایت سے۔معلوم ہوتا ہیکہ جو بندہ آپ ﷺ پر ایک دفعہ درود و سلام بھیجے تو اللہ تعالیٰ اس بندہ پر دس مرتبہ رحتیں بھیجتا ہے ۔اسی کو کہاجاتاہے کہ رحمتِ حق بہانہ میں جوید ،اللہ کی رحمت بخشش کے بہانے ڈھونڈتی ہے ( مَن صلیّٰ علیَّ صلوةً واحدة ً صلیّ اللہ علیہ عشرا) جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے ۔اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ یہاں غور کرنے کی بات ہیکہ کہیں اس عظیم نعمت سے ہم محروم تو نہیں ہورہےہیں ۔
مولانا محمد اسلم نقشبندیؒ اپنی کتاب گنجینئہ درود شریف میں درود شریف پڑھنے کے باسٹھ( 62)مقامات کا انتخاب فرمایا ہے جہاں درود شریف پڑھنے کی بہت فضیلت ہے ۔ایسا بابرکت وظیفہ ہے جو کسی بھی و قت پڑھا جاسکتا ہے یعنی درود شریف پڑھنے کی نہ تو تعداد متعیّن ہے اور نہ ہی وقت ۔جب دل چاہے جس قدر چاہے ۔دن ہو یاراتنماز سے پہلے یا نماز کے بعد کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اس کے پڑھنے میں وقت کی بھی کوئی قید نہیں۔مگر اکثر مقامات اور اوقات میں درود شریف پڑھنا بہت زیادہ فضیلت کا باعث ہے ۔اسلئے مولانا محمد اسلم صاحب نقشبدیؒ نے باسٹھ(62 ) مقامات اور اوقات کو درج فرمایا ہے۔
